’میں آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہوں‘

0
148

تحریر: عابد جنید
✍ میں پیریڈ پڑھانے کے بعد اپنے کمرے داخل ہوئی تو وہاں برقعے میں ملبوس ایک عورت کو اپنا منتظر پایا۔ پوچھنے پر اس نے مختصر‏اً اپنا تعارف کرایا اور وقت ضائع کئے بغیر اس نے کہا؛ “میں آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہوں۔ ”
جی فرمائیے ! میں نے نہایت شائستگی سے کہا۔
میرے پاس وقت بہت کم ہے، وہ لوگ مجھے مار دینا چاہتے ہیں، اس نے اپنا ہاتھ ملتے ہوئے کہا۔
کون لوگ آپ کو مار دینا چاہتے ہیں؟ میں نے نہایت نرمی سے پوچھا۔
اب اس کا وقت گزر چکا، وہ بہت جلد مجھ تک پہنچ جائیں گے، میں آپ کو کچھ اہم باتیں بتانا چاہتی ہوں، براہ مہربانی ان باتوں کو غور سے سنیں اور اسے امانت سمجھ کر آگے بڑھا دیجئے گا۔
جی فرمائیے ! میں نے اُن سے کہا ۔۔۔

اس نے کہنا شروع کیا۔۔۔
یہ میری زندگی کی داستان ہے، میں نے صوم و صلوۃ کے پابند ایک خاندان میں آنکھ کھولی تھی، میری تربیت مکمل ایک مشرقی ماحول میں ہوئی، میٹرک کے امتحان کے بعد کالج جانے لگی۔ گھر میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود تھی، جلد ہی فیس بک پر دانش نامی ایک لڑکے سے محبت ہو گئی، کالج کے بہانے ریسٹورینٹس میں ملاقاتیں طویل سے طویل تر ہوتی چلی گئیں، دانش بلاشبہ ان وجیہ لڑکوں میں شمار ہوتا تھا جن پر کوئی بھی لڑکی مر مٹے۔ آہستہ آہستہ دانش مجھے اپنے دوستوں جن میں مرد و خواتین دونوں شامل تھے ملوانے لگا، گاڑی بنگلہ اور اونچے خواب جو میں نے دیکھے تھے، دانش کے پاس میرے ہر خواب کی تعبیر تھی، اونچے اسٹیٹس کا بخار مجھے بھی چڑھ چکا تھا، اپنے گھر کا ماحول مجھے دقیانوسی سا لگنے لگا تھا، نقاب سے مجھے الجھن ہوتی تھی، جب میں پہلی دفعہ عبایا میں دانش کے دوستوں سے ملی تو مجھے اپنا آپ بہت میلا سا دکھائی دیا، اس کے بعد میں گھر سے تو عبایا پہن کر جاتی لیکن نقاب لینا چھوڑ دیا تھا۔ امی نے پوچھا تو میں نے کہا مجھے سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے۔ امی میرے اس بہانے سے مطمئن ہو گئیں۔

دانش کے دوستوں سے جب میں ملنے جاتی تو عبایا دانش ہی کی گاڑی میں اتار پھینکتی۔ وقت کی گاڑی گزرتی رہی، میں دانش سے شادی کے لئے کہنا چاہتی تھی، مگر اس کا طرزِ عمل بہت عجیب تھا، وہ مجھے ایک دوست کی حیثیت سے ٹریٹ کر رہا تھا۔ میرا حلقہ احباب دانش کے توسط سے وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا۔ اسی سول سوسائیٹی میں میری ملاقات نوید سے ہوئی اور آہستہ آہستہ میں دانش سے دور اور نوید کے قریب ہوتی چلی گئی۔ ماڈرن صحبت رنگ لائی اور میں نے حدود و قیود کو توڑ ڈالا، میں نے اپنے اللہ کو ناراض کر دیا۔

اس وقت مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں تھی میں خدا کا انکار کر چکی تھی۔ اس دنیا میں کوئی خدا نہیں، یہ کیسا خدا ہے جو لوگوں کو امیر غریب میں تقسیم کرتا ہے (معاذاللہ) اور ملحدین کے تمام افکار میرے دل و دماغ میں بس چکے تھے۔ لبرل ازم کا نشہ سر پر سوار تھا۔ اس مصنوعی آزادی کی فضا میں سانس لینا بہت اچھا لگ رہا تھا۔ نوید کے بعد پھر کوئی گنتی نہیں رہی۔ میں مکمل ملحدہ ہو چکی تھی۔ گھر بار کو خیر باد کہہ کر ایک اور دوست کے ساتھ اس کا کمرہ شئیر کر لیا تھا۔ ان کی ایک آرگنائزیشن تھی جس کا کام الحاد کی نشر و اشاعت تھی۔ انہوں نے مجھے اس آرگنائزیشن میں ایک اچھا عہدہ، اچھی تنخواہ دی۔ میں نے اس آرگنائزیشن میں رہتے ہوئے تقریباً تمام ہی دنیا کی سیر کی۔ کبھی ہالینڈ، کبھی انگلیڈ، سنگا پور، ترکی ۔۔۔ وہ کون سا ملک ہو گا جو میں نے نہ دیکھا ہو۔ اس آرگنائزیشن کے تحت ہی میں نے متعدد حقوقِ نسواں کانفرنسز کرائیں اور خود بھی شرکت کی۔ ان خواتین کو ہم اس بات پر بر انگیختہ کرتے تھے کہ مرد کی غلامی سے نکلو تم زندگی بھر بچے ہی پالو گی، اپنے ٹیلنٹ کو آزماؤ دنیا بہت وسیع ہے۔
بات کرتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔

کسی کے گھر میں اگر کوئی معمولی خانگی مسئلہ ہوتا تو ایسی عورت تو ہمارا اولین شکار ہوتی، بجائےاس کو سمجھانے کے ہم اس کو خوب ورغلاتے۔ پھر طلاق کے بعد وہ ہماری اس بے حیا سوسائٹی کی ایک روشن خیال ممبر بن جاتی۔ ناجائز پیسہ اور عیاشی کی راہ میں ہمارا سب سے بڑا مخالف مذہب اور وہ بھی بالخصوص اسلام ہے۔ ہم نے اپنے اس راستے کے کانٹے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دور کر دیا، نہ ہم خدا کو مانتے اور نہ ہی کسی اخلاقی شرم کو محسوس کرتے ہیں۔

مولویوں، داڑھی، برقع اور اسلام پر تنقید میرا پسندیدہ موضوع تھا، اخلاقیات کو مجھ سے رخصت ہوئے زمانہ ہو چکا تھا، اب تو میں یہ سوچتی تھی کہ ایک وہ لڑکی ہوتی تھی جو صبح فجر کی نماز باقاعدگی سے ادا کرتی تھی، رمضان کے روزے چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی، میں آزاد تھی اب، اور چاہتی تھی دنیا کی ہر لڑکی اس آزاد فضا میں سانس لے میں کسی لڑکی کو جینز اور شرٹ میں دیکھتی تو بہت خوش ہوتی۔ اس کو اپنی فتح قرار دیتی۔ اور برملا کہتی کہ آج کی لڑکی بیدار ہو رہی ہے، یہ اس دنیا کی خوبصورتی ہے، اس چمن کی رونق اسی سے ہے، میں ان الحادیوں میں رہتے رہتے اخلاقیات کا ہر سبق بھول چکی تھی۔ خواہشاتِ نفس میری زندگی کا اولین مقصد تھا، سائنس میرا خدا اور آزادی میرا ایمان تھا، گروپ ڈسکشن میں بے حیائی کی تمام حدود کو میں نے توڑا تھا، مجھے یاد ہے پہلی دفعہ جب گروپ میں ایک بے حیائی کے عنوان پر بات ہو رہی تھی، میں نے چاہا کہ اس عنوان پر ان باکس میں بات ہو تو میرے سینیئر نے مجھ سے کہا: وش مہمل ! تم مکمل atheist ہو، تمہیں شرمانا نہیں چاہیئے، اگر تم ایسا کرو گی تو عام لوگ کیا کہیں گے اور پھر اس دن رہی سہی جھجھک بھی ختم ہو گئی، میں اس آرگنائزیشن کی سب سے زیادہ فعال ممبر تھی، میں نے کئی لڑکیوں کو اس آرگنائزیشن کا ممبر بنایا تھا، گھروں سے بھاگ کر آنے والی لڑکیوں کیلئے ہماری آرگنائزیشن خصوصی سہولت فراہم کرتی تھی، جب بھی کسی ایسی لڑکی کا ذکر ہوتا آرگنائزیشن کے صدر خصوصی دلچسپی لے کر اس معاملے کو ہینڈل کرتے تھے۔ یہ مجھے ہی معلوم تھا کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں، وقت تیز رفتار طائر کی طرح اڑتا رہا ۔۔۔

کچھ عرصہ بعد مجھے محسوس ہونے لگا کہ اب میری جانب توجہ کم ہو گئی ہے، آرگنائزیشن میں کئی عہدے اور نکل آئے، جہاں کئی اور خوبصورت لڑکیاں آچکی تھیں۔ میری جوانی کی رعنائیاں ختم ہو رہی تھیں لیکن میں اس آرگنائزیشن کے تمام رازوں سے واقف تھی، اب تو ویسے بھی حقوقِ نسواں کی بڑی بڑی کانفرنسز میں میری شرکت لازم تھی، میرا ایک نام تھا روشن خیال، لبرل سوسائیٹیز میں لوگ میری مثالیں دیا کرتے تھے۔

ائیر پورٹ کے لاؤنج میں ایک دن میری ملاقات ایسی لڑکی سے ہوئی جو نقاب میں موجود تھی، میں اسے اپنا اگلا شکار قرار دے کر اس سے بہت محبت سے ملی، اس نے مجھے ایک نظر دیکھا اور کہا: وش مہمل ! زندگی کی ہر چیز تمہاری تھی، تمہارے لئے ہی بنی تھی، یہ خوشیاں جن کی تلاش میں تم یہاں تک پہنچی ہو، تمہارا نصیب تھیں، بہت جلدی کی تم نے، دنیا تو تباہ کی ہی مگر آخرت بھی برباد کر لی۔
واٹ نان سینس؟ میں نے غصے میں کہا؛ تم ہو کون؟ اگلے ہی لمحے میں نے اس کی آواز کو پہچان لیا تم ربیعہ تو نہیں ہو؟
ہاں، وش مہمل ! میں ربیعہ ہی ہوں، تم نے درست پہچانا، میرے سامنے میری بچپن کی سہیلی ربیعہ تھی، میری پڑوسن، ہمارا بچپن ساتھ ساتھ گزرا تھا، میں اسے اس طرح اپنے سامنے دیکھ کر بہت خوش ہوئی، یہاں کیسے آنا ہوا؟ میں نے ربیعہ سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ واپس پاکستان جا رہی تھی۔
امی کیسی ہیں ربیعہ ! سب لوگ کیسے ہیں؟ میں نے اپنے گھر کے ایک ایک فرد کا نام لے لے کر پوچھا، میری آنکھوں نے چھلکنا شروع کر دیا تھا، ربیعہ تمہارے والد تمہارے غم میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے، بہنوں کی شادی ہو گئی، وہ تمہیں ایسے بھول گئے جیسے کہ تم کبھی تھی ہی نہیں، خدارا ! اب ان کی پرسکون زندگی کو جا کر دوبارہ کسی طوفان سے آشنا نہ کر دینا، اُن کیلئے تم مر چکی ہو، بس ایک تمہاری ماں ہے جو ایک اُمید سی رکھتی ہے تم سے کہ تم ضرور پلٹو گی، وہ کہتی ہیں میں نے نعتوں کی لوری دے کر اسے پالا ہے، اسے میں جب دودھ پلاتی تھی تو درود شریف کا ورد میری زبان پر ہوتا تھا، میری بیٹی ملحدہ کیسے ہو سکتی ہے؟ بس ان کی بوڑھی آنکھوں میں آج بھی اُمید کی کرن ہے ۔
وش مہمل ! یہ جو تمہارے ساتھ ہیں یہ سب درندے ہیں، یہ عورت کی آزادی کے نام پر عورت تک پہنچنا چاہتے ہیں، یہ عزت اور غیرت کو الحاد کی شراب پلا کر مدہوش کر دیتے ہیں۔ وش مہمل ! ایک عام عورت تک پہنچنا کسی بھی لبرل درندے کے لئے مشکل کام ہے لیکن تم تک یہ بآسانی پہنچ سکتے ہیں آزادی کے نام پر ۔۔۔

میں جانتی ہوں ربیعہ! مجھ سے بہتر انہیں کون جانتا ہو گا، یہ یہودیوں کے لئے کام کرتے ہیں، ان کا کام بس اسلام کے خلاف بکواس کرنا ہوتا ہے، ان کے فیس بک پیج پر مذہب کی مخالفت سب سے زیادہ اسلام کی ہوتی ہے، یہودیت کی تو صرف دکھاوے کے طور پر مخالفت ہوتی ہے اصل ہدف ان کا اسلام اور پیغمبرِ اسلام ﷺ ہیں۔
یہاں آنے والی لڑکیوں کو دوسرے ممالک میں وزٹ ایسے نہیں کرائے جاتے، ان سے بزنس کرایا جاتا ہے، الحاد کی شراب انہیں مدہوش رکھتی ہے، پیسہ، سیر و تفریح ان کی بنیادی ضروریات سے لے کر عیش و عشرت کے تمام سامان انہیں مہیا کئے جاتے ہیں، اور پھر انہی لڑکیوں کو مسلم لڑکوں کے لئے کانٹے کا چارہ بنایا جاتا ہے۔

ابھی یہ گفتگو ہو ہی رہی تھی کہ ربیعہ کے شوہر علم الدین بھی آ گئے، آج تک مجھے داڑھی سے سخت نفرت تھی، ہمیشہ ہی داڑھی پر شدید تنقید کی، آج اس باوقار انسان کو دیکھ کر اپنی رائے تبدیل کر لی، علم الدین نے مجھے ایک دفعہ بھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھا تھا، میں مردوں کی فطرت سے بخوبی آگاہ تھی، علم الدین کو عورت کی عزت کرنا آتی تھی، عورتوں کی عزت کرنا اسلام نے ہی تو سکھایا ہے ورنہ ان روشن خیالوں نے تو عورت کو مال تجارت بنا دیا ہے۔
وش مہمل! دیر نہیں ہوئی واپس پلٹ جاؤ ! سچی توبہ کر لو، وہ اپنے بندوں سے بہت محبت کرتا ہے، تمہارے لئے راہیں کھول دے گا، تم واپس آ جاؤ، کہیں بہت دیر نہ ہو جائے، اس دن میں اس کے کندھے سے لگ کر بہت روئی ۔

میرے اندر آنے والی تبدیلی کو جلد ہی میری آرگنائزیشن نے نوٹ کر لیا۔ ایک دن میں نے جذبات میں آ کر ان کو خوب سُنائی، میں نے ان سے کہا تم ہی وہ ظالم ہو جنہوں نے میرے بچپن کو پامال کیا، تم ساری زندگی میری قیمت وصول کرتے رہے، تم وحشی ہو، درندے ہو، انسانیت کے دشمن تم ہو اسلام نہیں، میں بہت برے طریقے سے چیخ رہی تھی، وش مہمل ! تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تم پاگل تو نہیں ہو گئیں، پھر مجھے بے ہوشی کا انجیکشن لگا کر ایک کمرے میں قید کر دیا گیا، آج وہاں سے جان بچا کر نکلی ہوں۔

خدارا ! آپ یہ میسج ہر لڑکی تک پہنچا دیجئے گا۔ ہر گھر تک پہنچا دیجئے گا، تمہاری عزت کا سائبان تمہارا اسلام ہے، تم جس آزادی کو دیکھتی ہو وہ آزادی نہیں ایک قید ہے، دنیا کی بھی قید اور آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم کی قید، وہ باپ جو تمہارے لئے کماتا ہے، وہ بھائی جو تمہاری عزت کا رکھوالا ہے، وہ شوہر جس کی مملکت کی تم ملکہ ہو، تمہاری جنت تمہارے بچے ہیں، تم آزاد ہو، خدارا ! اس قید کا شکار نہ ہونا، یہ باہر سے بہت خوب صورت ہے لیکن اندر سے بہت گندی، گھناؤنی ہے ۔۔۔
یہ پیغام آپ کے پاس ایک امانت ہے۔ اس کو دوسروں تک پہنچا دیجئے گا اور وش مہمل چلی گئی ۔۔۔

ساری گفتگو کے دوران اس کی آنکھیں مسلسل بہتی رہیں ۔۔۔ وہ بات کرتی رہی، روتی رہی، کئی بار تو وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی۔ اس کو تسلی دینے کے لئے بھی میرے پاس الفاظ نہ تھے ۔ میں بس بت بنی اس کی بات سنتی رہی ۔۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here