اس گوری لڑکی نے اپنے بوائے فرینڈ سے تعلق کیوں توڑ لیا؟ ایسا شرمناک راز بے نقاب کردیا کہ آپ کے گال بھی شرم سے لال ہوجائیں

0
14
My-boyfriend-8.5inch-penis-caused-us-to-break-up-because-having-sex-was-so-‘hard’

لندن (پاکستان ٹوئنٹی فورسیون نیوز )مردانہ کمزوری جہاں ایک مسئلہ ہے وہیں مردانہ قوت کی زیادتی بھی اکثر اوقات ازدواجی تعلقات میں بڑے مسائل کی وجہ بن جاتی ہے جو انسان کسی کو بیان بھی نہیں کر سکتا۔ برطانیہ کی رہائشی نوجوان لڑکی نے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ تعلقات اس لیے ترک کر دیئے کہ اس کا عضو تناسل معمول سے زیادہ حجم پر مبنی تھا جس کے باعث جنسی تعلقات قائم کرتے ہوئے لڑکی کیلئے تکلیف کا باعث بنتا تھا اورتکلیف ناقابل برداشت ہو نے پروہ چلانے لگتی تھی ۔

نیوز ویب سائٹ ” دی سن “ کے مطابق 27 سالہ صوفی جونز میڈلینڈز کی رہنے والی ہے اور وہ ایک 25 سالہ نوجوان لڑکے ٹوم ویسٹن کے ساتھ محبت کرتی تھی تاہم مخصوص مسائل کے باعث انہیں پانچ سال میں کئی مرتبہ ایک دوسرے سے دور جانا پڑا ۔صوفی جونز کا کہناہے تھا کہ اس کے بوائے فرینڈ کا عضو تناسل کا سائز ”8.5“ انچ ہے اور اس کی موٹائی بھی بہت زیاد ہ ہے جس کے باعث جسمانی تعلقات قائم کرنے کے دوران بہت ہی زیادہ تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے ۔

صوفی کا کہناتھا کہ ٹوم نے مجھے اپنے عضو تناسل کے سائز کے بارے میں پہلے کبھی آگاہ نہیں کیا تھا لیکن جب ہم نے تعلقا ت قائم کیے تو میرے لیے درد ناقابل برداشت تھا اور اس دوران مجھے منہ سے اچانک نکل گیا کہ میں نے آج تک ایسا عضو خاص کسی کا نہیں دیکھا اور ٹوم میری طرف دیکھ کر مسکرانے لگا ۔

صوفی نے بتایاکہ متعدد بار تو ہم نے اس وجہ سے تعلقات کو ترک کیا اور ہماری لڑائی بھی ہو جاتی تھی لیکن ہم دونوں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے بارے میں بہت زیادہ جذباتی بھی ہیں لیکن کئی مرتبہ ہم عام جوڑوں کی طرح اس مسئلے کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ ازدواجی تعلقات بھی قائم نہیں کرپاتے تھے ۔

نوجوان لڑکی کا کہناتھا کہ میرے خیال میں ٹوم کو بھی اس بات کا اندازہ ہو چکا تھا اور وہ مجھے مزید تکلیف نہیں پہنچانا چاہتا تھا اس لیے ہم اس کی بجائے دوسری چیزوں میں وقت گزارتے تھے اور جب کبھی وہ لمحہ آجاتا تو مجھے پھر تکلیف سے گزرنا پڑتا تاہم آخر کار ایک دن یہ سب ختم ہو گیا اور ہم نے ایک دوسرے سے دوری اختیار کر لی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here