وہ انوکھا گاؤں جہاں ہر گھر کے سامنے قبر ہے

0
91
india_village_qabristan

 نیو دہلی(پاکستان ٹوئنٹی فورسیون نیوز)انڈیا کے ایک گاؤں میں پہنچتے ہی لوگوں کو یہ خیال آتا ہے کہ کہیں وہ کسی قبرستان میں تو نہیں آ گئے۔

تفصیل کے مطابق جنوبی ہندوستان کی ریاست آندھرا پردیش کے کنرنول ضلع میں واقع ایّا کونڈا ایک ایسا گاؤں ہے جہاں ہر گھر کے ساتھ یا سامنے قبر ہے۔ایّا کونڈا کرنول ضلع ہیڈکوارٹر سے 66 کلو میٹر کے فاصلے پر گونے گنڈل تحصلی میں ایک پہاڑی پر آباد ہے۔
ہر گھر کے سامنے قبرمالاداسری برادری کے کل 150 خاندانوں والے اس گاؤں کے لوگ اپنے عزیزواقارب کی موت کے بعد ان کی لاش کو گھر کے سامنے دفن کرتے ہیں کیونکہ یہاں کوئی قبرستان نہیں ہے۔اس گاؤں میں ہر گھر کے سامنے ایک یا دو قبریں دیکھی جا سکتی ہیں۔ گاؤں کی خواتین اور بچوں کو اپنے روز مرہ کے کاموں کے لیے ان قبروں سے ہو کر گزرنا ہوتا ہے۔اگر خواتین ان سے ہو کر پانی لینے جاتی ہیں تو بچے ان کے گرد کھیلتے ہیں۔گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ یہ قبریں ان کے اجداد کی ہیں جن کی وہ روزانہ پوجا کرتے ہیں، ان پر نذرانے چڑھاتے ہیں اور اپنے مخصوص رسم و رواج کی پابندی کرتے ہیں۔گھر کے افراد گھر میں پکنے والا کھانا اس وقت تک نہیں چھوتے جب تک انھیں پہلے قبر پر نذر نہیں کیا جاتا۔

اس رواج کے بارے میں گاؤں کے سرپنچ شرينواسول نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ‘روحانی پیشوا نلا ریڈی اور ان کے شاگرد مالا دشاری چنتلا منی سوامی نے گاؤں کی ترقی کے لیے اپنی پوری طاقت اور دولت لگا دی تھی۔ ان کے کاموں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے گاؤں کے لوگوں نے ان کے اعزاز میں یہاں ایک مندر قائم کیا اور ان کی پوجا کرنے لگے۔ اسی طرح اپنے خاندان کے بزرگوں کے اعزاز میں یہ لوگ اپنے گھر کے باہر ان کی قبریں بناتے ہیں۔‘ان کے یہاں کا یہ رواج محض کھانے نذر کرنے اور پوجا کرنے تک محدود نہیں بلکہ جب وہ کوئی نئی چیز خریدتے ہیں تو بھی وہ سب سے پہلے اس کو ان قبروں کے سامنے رکھتے ہیں اور اس کے بعد ہی اس کا استعمال کرتے ہیں۔

شرينواسل نے بی بی سی کو بتایا کہ گاؤں والوں سے ان توہمات کی گہری جڑوں کو ختم کر پانا بہت مشکل ہے اور اب انھوں نے گاؤں کے بچوں کو تعلیم دینے کا بیڑا اٹھایا ہے کیونکہ ان کے مطابق وہی مستقبل میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ گاؤں کے بچوں میں غذائیت کی کمی پر انھیں تشویش ہے اور سرکاری سکیموں کے حصول کے لیے پہاڑی ڈھلان پر ان لوگوں کو گھر بنانے کے لیے زمین دینے کی حکومت سے اپیل کی گئی ہے۔اس گاؤں میں کچھ دوسرے رسم و رواج بھی ہیں۔ مثال کے طور پر یہاں کے لوگ اپنے گاؤں سے باہر شادی نہیں کرتے اور یہ لوگ چارپائی پر بھی نہیں سوتے۔گاؤں والوں کا اہم پیشہ کاشتکاری ہے اور یہاں اناج کے علاوہ پیاز، مونگ پھلی اور مرچ کی کاشت بھی ہوتی ہے۔ایّا كونڈا کو اس علاقے میں خرگوش کی کثیر آبادی کی وجہ سے پہلے ‘كنڈے لو پڑا’ (خرگوش کا گھر) کے نام سے جانا جاتا تھا۔ پھر بعد میں اسے ایّا کونڈا کا نام دیا گیا۔

تحصیل کونسل کے علاقائی حلقہ (ایم پی ٹی سی) کے رکن خواجہ نواب کہتے ہیں کہ اگر حکومت قبرستان کے لیے زمین مختص کر دے تو سے یہ توہمات ختم ہو سکتے ہیں۔گاؤں کے سربراہ رنگاسوامي نے کہا: ‘نسل در نسل ہم جن رسم و رواج پر عمل کرتے آئے ہیں انھیں روک دینے سے ہمیں نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ہم اس بات پر بھی فکر مند ہیں کہ مستقبل میں قبر بنانے کے لیے ہمارے پاس زمینیں نہیں رہ جائیں گی۔ ہمارے گاؤں میں رہنما انتخاب سے پہلے جھانکنے تک نہیں آتے۔’جب بی بی سی نے کرنول حلقے کی رکن پارلیمان بٹا رینوکا سے اس بارے میں دریافت کیا تو انھیں اپنے انتخابی حلقے میں کسی ایسے گاؤں کا علم نہیں تھا۔انھوں نے کہا کہ وہ پہلی بار ایسی کوئی بات بی بی سی سے ہی سن رہی ہیں۔انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ گاؤں والوں کی امداد کی جائے گی اور اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ وہ ضلع کلکٹر سے گاؤں کی حالت پر رپورٹ طلب کریں گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here