ذہنی معذورشخص کا انتقال لیکن دعا بچوں والی پڑھی جائے گی یا دعائے مغفرت؟ مفتی منیب الرحمان نے مسئلہ بتادیا

0
59

کراچی(پاکستان 247نیوز)ذہانت یا خوبصورتی وجوانی وغیرہ کسی کی میراث نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے ، وہ چاہے تو جس کو بھی دے دے لیکن کیا اگر کوئی ذہنی معذورمسلمان شخص وفات پاجائے تو اس کی نمازجنازہ میں نابالغ یعنی بچوں والی دعا پڑھی جائے گی یا بڑے شخص کی ، اس کا مسئلے پر مفتی منیب الرحمان نے روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ نمازِ جنازہ میں پہلی تکبیر کے بعد ثناء،دوسری تکبیر کے بعد درود شریف پڑھا جاتاہے اور تیسری تکبیر کے بعد دعائے مغفرت کی جاتی ہے ، اگر میت نابالغ یا مجنون کی ہو تو دونوں صورتوں میں نابالغ والی دعا پڑھی جائے گی۔مجنون سے مراد وہ شخص ہے جو بچپن سے ہی عقل وشعور سے محروم ہو لیکن اگر بلوغت کے بعد اس کی عقل سلامت تھی لیکن بعد میں مسئلہ بنا تو بالغ والی یعنی دعائے مغفرت پڑھی جائے گی ۔علامہ حسن بن عمار لکھتے ہیں:مجنون اور نابالغ بچے کے لیے دعائے مغفرت نہیں کی جائے گی۔
اس سے یہ ثابت ہوا کہ بلوغت تک جس شخص کی عقل سلامت رہی ، اور بعد میں جنون لاحق ہوا جو روح قبض ہونے تک جاری رہا، اس کی نمازِ جنازہ میں تیسری تکبیر کے بعد بالغ والی دعاپڑھی جائے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here