کیا شیشے کے سامنے نماز کی ادائیگی جائز ہے؟ وہ بات جو آپ بھی جان لیں

0
114
what-isalam-says-about-Namaz-infront-of-mirror-tells-mufti-munib-ur-rehman

 اسلام آباد، کراچی (پاکستان 247نیوز)عمومی طورپر مساجد وغیرہ میں کھڑکیوں اور دیواروں پر نقش ونگار بنانے کے لیے شیشے اور دیگر ایسی چیزوں کا استعمال کیاجاتاہے جس کے بارے میں عمومی تصور ہے کہ شیشے کے نام نماز نہیں ہوتی لیکن مفتی منیب الرحمان نے اب اس مسئلے پر روشنی ڈالی ہے اور کراچی کے ایک شہری کے سوال کے جواب میں بتایاکہ نماز ہوجاتی ہے ۔ روزنامہ جنگ کے تفہیم المسائل نامی سلسلے میں مفتی منیب الرحمان نے بتایاکہ نمازی کے سامنے شیشے کے دروازے یا کھڑکیاں ہوں تو نماز تو ہوجائے گی، البتہ اگر شیشے کی وجہ سے نمازی کی نماز میں خلل ہوتا ہو اور نمازی کی توجہ اس جانب جاتی ہو،تو نماز مکروہِ تنزیہی ہوگی ،یعنی نماز دہرانے کی ضرورت نہیں،ان شیشوں میں جو عکس نظر آتا ہے ،اس کا حکم تصویر کا نہیں ہے۔ فقہائے کرام نے قبلے کی جانب دیوار اور محراب میں نقش ونگار کو مکروہ فرمایا ،سبب یہ ہے کہ نمازی کا دھیان بٹے گا ، علامہ نظام الدین رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں: ترجمہ:” ہمارے بعض مشایخ نے محراب اور قبلہ کی جانب دیوار پر نقش کو مکروہ جانا ہے، کیونکہ یہ نمازی کے دل کوغافل کرتاہے ،(فتاویٰ عالمگیری ،جلدپانچ، ص:تین سو انیس)“۔ تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے : ترجمہ:” اور محراب کے علاوہ مسجد میں نقش ونگار بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے ،محراب میں نقش ونگار بنانا مکروہ ہے، کیونکہ یہ نمازی کو غافل کردیتے ہیں اور باریک بینی پر مشتمل نقش ونگار کا اہتمام کرنا مکروہ ہے ،خصوصاً قبلے کی دیوار میں ایساکرنا مکروہ ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here