وہ تین طرح کے حالات جن میں مرد کو اپنی بیوی سے جنسی تعلقات کی اجازت نہیں

0
209
پشاور(پاکستان ٹوئنٹی فورسیون نیوز) اسلام دین فطرت ہے جس نے ہر شخص کو زندگی گزارنے کا سلیقہ بتایا تو ساتھ اس کے فرائض اور دوسروں کے حقوق بھی بتادیئے ہیں ، رشتوں میں ماں باپ کے علاوہ میاں بیوی کا بھی اہم مرتبہ ہے ، مذہب نے بھی ایک جانب تو شوہر کو بیوی کا نگہبان بنا کر اس کو یہ حکم دیا کہ اس کے حقوق کا خیال رکھے تو دوسری جانب بیوی کو بھی اس بات کا پابند کیا کہ وہ اپنے شوہر کی خواہشات کا خیال رکھے۔ موجودہ زمانے میں مرد و عورتوں کی مساوات کی تحریک نے عورتوں کو یہ احساس بھی دلایا کہ مرد اپنی بیوی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کر کے اس کے ساتھ زیادتی کا مرتکب ہوتا ہے لیکن تین طرح کے حالات میں مرد کیلئے عورت کیساتھ جنسی تعلقات بداخلاقی تصور ہوں گے ۔
ایام حیض
پڑھ لو کے مطابق ایام حیض کے دوران میاں بیوی کی مباشرت سے اسلام میں منع فرمایا گیا ہے اس کے ثبوت میں سورة البقرة کی آیت 222 موجود ہے جس میں اللہ فرماتا ہے۔
’اور آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دو وہ نجاست ہے پس حیض میں عورتوں سے علیحدہ رہو، اور ان کے پاس نہ جاو  یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں، پھر جب وہ پاک ہو جائیں تو ان کے پاس جاو جہاں سے اللہ نےتمہیں حکم دیا ہے، بے شک اللہ توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور بہت پاک رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے‘۔ان اوقات کے دوران اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کے ساتھ زبردستی مباشرت کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کو زبردستی زیادتی قرار دیا گیا ہے۔
غیر فطری راستے سے مباشرت
اللہ تعالی نے عورت اور مرد کے اندر جنسی خواہشات اس لیے پیدا کی ہیں تاکہ وہ اس کے ذریعے اپنی نسل کو بڑھا سکیںتاہم اس خواہشات کی تکمیل کے لیے غیر فطری راستے کا استعمال کرنا اسلام میں سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے،پڑھ لو کے مطابق سورة البقرة کی آیت 223 میں اللہ تعالی فرماتے ہیں”تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں پس تم اپنی کھیتیوں میں جیسے چاہو آو¿، اور اپنے لیے آئندہ کی بھی تیاری کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ تم ضرور اسے ملو گے اور ایمان والوں کو خوشخبری سنا دو،جس طرح کھیتی کرن کا قاعدہ ہوتا ہے اسی طرح مباشرت کے لیے بھی غیر فطری راستوں کا استعمال ممنوع ہے‘۔
روزے کی حالت میں مباشرت
اگراہلیہ روزے کی حالت میں ہو تو اس کے ساتھ زبردستی مباشرت کرنا جنسی زیادتی کے زمرے میں آتا ہے اور اس سے اسلام میں منع فرمایا گیا ہے۔
یہ سب وہ صورتیں تھیں جن کو کرنے سے گناہ کا وبال انسان کے اوپر آتا ہے، اس کو وہی گناہ حاصل ہوتا ہے جو کسی بھی انسان کو جنسی زیادتی کی صورت میں ملتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here