خلیفہ ہارون الرشید کی درگاہ میں حاضر ہونیوالا وہ ملحد جو امام ابو حنیفہؒ کی بصارت سے راہ راست پر آگیا،و جود باری تعالیٰ کا قائل ہوگیا

0
562

خلیفہ ہارون الرشید کے پاس ایک ملحد شخص آیا اور کہنے لگا: ’ اے امیر المومنین ! تیر عہد کے علماء نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ اس دنیا کا کوئی خالق ضرور ہے۔ ان میں سے جو عالم وفاضل ہوا، اسے یہاں حاضر ہونے کا حکم دیا جائے ، تاکہ میں آپ کے سامنے اس کے ساتھ بحث کروں اور ثابت کردوں کہ دنیا کا کوئی بنانے والال نہیں۔ ‘
روزنامہ امت کے مطابق چونکہ امام ابو حنیفہؒ کا اس وقت کے علماء میں بڑا نام اور افضل مقام تھا۔ لہٰذا ہارون رشید نے آپؒ کے پاس پیغام بھیجا اور کہا: ’’ اے مسلمانوں کے امام! آپ کو اطلاع ہے کہ ہمارے ہاں ایک شخص آیا ہے اور وہ دعویٰ کرتا ہے کہ صانع (کائنات کا بنانے والا ) کوئی نہیں اور وہ آپ کو مناظرے کا چیلنج دیتا ہے ۔ ‘
امام صاحب ؒ نے فرمایا: میں ظہر کے بعد آجاؤں گا ۔ خلیفہ کا پیغام برآیا اور جو کچھ امام صاحبؒ نے فرمایا، اس کی اطلاع دے دی ۔ خلیفہ نے دوبارہ پیغام بھیجا۔ امام ابو حنیفہؒ اُٹھے اور خلیفہ کے پاس آئے ۔ ہارون رشید نے آپ کا استقبال کیا آپ کو ساتھ لایا اور مقام بلند پر جگہ دی۔ سب دربار میں جمع ہوگئے۔
ملحد نے کہا : اے ابو حنیفہ ! آپ نے آنے میں دیر کیوں کردی؟
امام صاحبؒ نے جواب دیا : مجھے ایک عجیب بات پیش آئی ، اس لیے دیر ہوگئی ۔ وہ یہ کہ میرا گھر دریائے دجلہ کے اس پار ہے۔ میں اپنے گھر سے نکلا اور دجلہ کے کنارے آیا ، تاکہ اسے عبورکروں ۔ میں دجلہ کے کنارے ایک پرانی اور شکستہ کشتی دیکھی ، جس کے تختے بکھر چکے تھے۔ جونہی میری نگاہ اس پر پڑی ، تختوں میں اضطراب آیا، انہوں نے حرکت کی اور خود ہی اکٹھے ہوگئے۔ ایک حصہ دوسرے حصہ سے جڑگیا اور بغیر کسی بڑھئی کے سالم کشتی خوش بخود تیار ہوگئی۔ میں اس کشتی پر بیٹھا اور وہ کشتی بغیر ملاح کے دریا کے دوسرے کنارے کی طرف چلنے لگی۔ اس طرح میں نے دریا عبور کیا اور یہاں آگیا۔
ملحد نے کہا : اے رؤسائے دربار ! جو کچھ تمہارا امام و یشو اور تمہارے عہد کا افضل انسان کہہ رہا ہے، اسے سنو ! کیا تم نے ایسی جھوٹی بات کبھی سنی ہے؟ شکستہ کشتی بغیر کسی کاریگر کے کبھی خود بھی بنی ہے؟ اور بغیر ملاح نے خود بخود کبھی چلی ہے؟ یہ تو محض جھوٹ ہے۔
امام صاحبؒ نے فرمایا: اے کافر مطلق ! اگر کسی کاریگر یا بڑھئی کے بغیر کشتی ازخود نہیں بن سکتی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ عظیم کائنات خود بخود وجود میں آجائے اور جب کسی ملاح کے بغیر کشتی خود چل نہیں سکتی تو یہ کیسے سمجھ لیا جائے کہ نظام کائنات بغیر کسی چلانے والے کے خود بخود چل رہا ہے۔
امام اعظیم ابو حنیفہؒ کی اس علمی بصیرت اور عجیب استدلال سے جہاں اور لوگوں کا ایمان پکا ہوا ، وہاں وہ ملحد و بے دین بھی راہ راست پر آگیا اور خداتعالیٰ کی ذات و حدہ‘ لا شریک کا دل سے قائل ہوگیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here