نیل پالش کے استعمال کیخلاف فتویٰ جاری، متبادل چیز بھی سامنے آگئی

0
42
nail-polish

نئی دہلی (پاکستان 247نیوز) خواتین عمومی طور پر اپنے ناخنوں کو نکھارنے یا انگلیوں پر لگے چھری وغیرہ کے زخم کو پانی سے بچانے کے لیے نیل پالش لگالیتی ہیں بلکہ شادی بیاہ کے لیے تو اسے ضروری سمجھا جاتاہے لیکن اب اسی کے خلاف فتویٰ آگیا ہے اور بھارت کی سب سے بڑی دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند نے واضح کیا ہے کہ نیل پالش کا استعمال غیراسلامی ہے، اس کے ساتھ نماز نہیں ہوتی لیکن ا س کے بجائے خواتین اپنے ناخنوں کے لئے مہندی کا استعمال کرسکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اقبال ڈے 9نومبر کو چھٹی ہوگی یا نہیں ؟ فیصلہ ہو گیا

بھارتی میڈیا کے مطابق دارالعلوم دیوبند کے مفتی اسرا رنے تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ اسلام خواتین کو زینت اختیار کرنے سے نہیں روکتا لیکن اگر کوئی خاتون نیل پالش لگا کر نماز پڑھتی ہیں تو اس کی نماز نہیں ہوتی،ضروری ہے کہ نماز وغیرہ کے لیے پاکیزگی یا وضو کرنے سے قبل اپنے ناخنوں سے نیل پالش پوری طرح صاف کریں۔ان کاکہناتھاکہ دراصل نیل پالش پانی کو ناخنوں تک پہنچنے ہی نہیں دیتی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here