ملک ریاض نے توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی

0
63
malik riaz hussain

اسلام آ باد(پاکستان247نیوز)سپریم کورٹ میں ارسلان افتخار اور ملک ریاض بزنس ڈیل میں توہین عدالت کیس میںبحریہ ٹاو¿ن کے سربراہ ملک ریاض نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ ہوئے کہا ہے کہ میں یہ داغ لے کر نہیں مرنا چاہتا کہ میں عدالت کی عزت نہیں کرتاہے۔ توہین عدالت کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔

تفصیل کے مطابق بحریہ ٹاو¿ن کے سربراہ ملک ریاض کے وکیل ڈاکٹر باسط عدالت میں پیش ہوئے ۔ ڈاکٹر باسط کی طرف سے عدالت کو بتا یا گیا کہ ملک ریاض کے خلاف توہین عدالت سے متعلق از خود نوٹس کیس نمٹایا جا چکا ہے، جب فرد جرم لگی تھی تو عدالتی حکم نامہ نہیں آیا تھا تاہم عدالتی حکم نامے میں آیا تھا کہ ملک ریاض نے کبھی توہین عدالت نہیں کی ۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملک ریاض نے کہا تھا کہ ان کا معاملہ عدالت کے ساتھ نہیں ارسلان افتخار کے ساتھ ہے۔جس پر چیف جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک ریاض پر فرد جرم لگ چکی ہے اور اب سزا ہونا باقی ہے۔ ہم اس کو قانون کے مطابق پرکھیں گے۔
ملک ریاض کے وکیل ڈاکٹر باسط نے عدالت کو بتایا کہ ملک ریاض شدید بیمار ہیں اور ان کو کینسر ہے جب کہ عدالت میں مستند انگریز ڈاکٹروں کی میڈیکل رپورٹس پیش کر دی گئی ہیں۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ڈاکٹر باسط سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک ریاض نے عدالت میں حاضر ہونے سے استثنی کی درخواست نہیں دی، آپ مستند پاکستانی ڈاکٹروں کی رپورٹ پیش کر دیں وہ بھی قبول کرلیں گے،آپ بار بار انگریز ڈاکٹروں کا حوالہ کیوں دیتے ہیں ؟ڈاکٹر باسط نے عدالت کو بتایا کہ ملک ریاض پروسٹیٹ کینسر جیسی بیماری میں مبتلا ہیں۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ التوا صرف دو صورتوں میں ملے گا۔ ایک یہ کہ یا تو ملک صاحب انتقال فرما جائیں یا جج صاحب انتقال کر جائیں۔جس پر ملک ریاض کے وکیل نے عدالت کے روبرو مو¿قف اختیار کیا کہ ملک ریاض کی سرجری ہونی ہے ، کینسر جیسے موذی مرض نے ان کی ریڑھ کی ہڈی کوبھی متاثر کیا ہے۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایک اخبارنے ملک ریاض کی بیماری کے بارے میں خبر چھاپی ہے۔ ملک ریا ض کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ میڈیا کو اس طرح کی خبریں چھاپنے سے روکا جائے۔ چیف جسٹس اپنے ریمارکس میں کہا کہ ٹرائل کے لئے گواہوں کی فہرست سابق اٹارنی جنرل نے تیار کی تھی جس میں ارسلان افتخار، سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری، سلمان علی خان اور سید یوسف شامل ہیں جب کہ میڈیا سے تو آپ لوگوں کی بہت اچھی دوستی ہے اور آپ کی کوئی خبر بھی نہیں لگتی ہے۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اگر پریس کانفرنس کی بنیاد پر کیس بنا تھا تو اس کی ویڈیو ہی کافی ہے اور صرف ویڈیو کی تصدیق کرنا ہوگی۔ ویڈیو میں پتہ چل جائے گا کہ بات کرنے کا انداز کیس تھا، ہم ملک ریاض کو 10 ہفتے حاضری سے استثنیٰ دے سکتے ہیں۔
ملک ریاض کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملک ریاض نے فون پہ کہا ہے کہ عدالت سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں ، میں یہ داغ لے کر نہیں مرنا چاہتا کہ میں عدالت کی عزت نہیں کرتا۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملک ریاض اس وقت بر طانیہ میں ہیں تاہم ان کی غیر مشروط معافی ایک ہفتے میں عدالت میں جمع کرا دی جائے گی۔ عدالت عدالت نے ملک ریاض کو حاضری سے استثنی کی درخواست دائر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 21فروری تک ملتوی کر دی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here