بینظیرانکم سپورٹ پروگرام میں 33 ارب کے گھپلوں کا انکشاف

0
16
benazir-income-support

اسلام آباد(پاکستان ٹوئنٹی فورسیون نیوز) سینیٹ کم ترقی یافتہ علاقہ جات میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 33 ارب کے گھپلوں کاانکشاف ہواہے سیکریٹری بی آئی ایس پی کمیٹی اراکین کومطمئن نہیں کر سکے۔

اجلاس چیئرمین کمیٹی عثمان کاکڑ کی سربراہی میںہوا،کمیٹی کوبینظیر انکم سپورٹ پروگرام پر کمیٹی کوبریفنگ دی گئی۔ سینیٹر فداخان نے کہا کہ سیکریٹری بینظیر انکم سپورٹ پروگرام بتائیں تقسیم کیے گئے 66ارب میں سے 33ارب کہاں گئے، انھوں نے کہا کہ میں نے رات گے تک ان ڈاکومنٹس کا تفصیلی جائزہ لیا، مجھے ڈاکومنٹس میں گھپلے محسوس ہوئے، اصل ذمے داروں کے متعلق بتایا جائے۔کمیٹی کے استفار پر سیکریٹری بی آئی ایس پی تفصیلی جواب دینے سے معذور نظر آئے جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ رقم غریب عوام کی ہے اسے ویسے ہی بسوں اور کسی کے الیکشن پر خرچ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، معاملے کو سینیٹ میں اٹھایا جائے گا اور ذمے داروں کو جواب دیناہوگا، بی آئی ایس پی سے متعلق کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2008میں ہر ایم این اے اور سینیٹرزکو تقسیم کیلیے فی کس ایک ہزار روپے دیے گئے جبکہ چاروں صوبوں کے ایم پی ایزکو 800 روپے دیے گئے حکام کے مطابق بی آئی ایس پی کاسالانہ بجٹ 2008 کے 70ارب روپے سے بڑھاکر2018-19کیلیے 124ارب روپے کر دیا گیا۔

علاوہ ازیں سینیٹ قائمہ کمیٹی مواصلات نے بی او ٹی کے تحت تعمیر ہونیوالے موٹرویز اور ہائی ویزکی تفصیلات آئندہ اجلاس میں طلب کرلیں جبکہ تمام ٹھیکے ایک ہی کمپنی کودینے کی وجوہ کی تفصیلات بھی مانگ لیں، کمیٹی اجلاس میں انکشاف کیاگیاکہ موٹروے پولیس کیلیے مجموعی طور پرکل منظور شدہ 11 ہزار 759 سیٹوں میں سے 5 ہزار871خالی ہیں،آن لائن کے مطابق کمیٹی میں انکشاف کیاگیاکہ سکھر ملتان موٹروے میں137ارب کی کرپشن کی گئی، کمیٹی کوبتایاگیاکہ نیواسلام آبادانٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 60روپے آنے اور جانے کا ٹول ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جبکہ ایف ڈبلیو او کا این ایچ اے سے کنٹریکٹ کے حساب سے 1روپے کچھ پیسے فی کلومیٹربنتاہے۔چیئرمین این ایچ اے نے پندرہ روز میں ٹول ٹیکس ختم کرانے کی کمیٹی کو یقین دہانی کروا دی جبکہ سینیٹ قائمہ کمیٹی کابینہ کے چیئرمین نے کہاکہ تمام سرکاری ادارے ایوان کوجواب دہ ہیں ہماراکام آئین سازی میں معاونت فراہم کرنے کیساتھ اداروں کو درست سمت میں نظام کو چلانا ہے،تاکہ برابری کی بنیادپر سب کو حقوق مل سکیں۔

جو افسران اپنی ملازمت کی مدت پوری کرچکے ہیں ان کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرانا اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کاکام ہے۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے تجارت میں پاورلومزسیکٹرکی بندش، چین کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدے اور وزارت تجارت کی جانب سے مختلف قسم کے لائسنس کے اجرا کے طریقہ کارپرتفصیلی بریفنگ دی گئی، کمیٹی کو بتایاگیاکہ چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 14ارب ڈالر سے بھی بڑھ گیا، کمیٹی نے کروڑوں کی درآمدی ٹیکسٹائل مشینری کو کلیئر نہ کرنے پر اظہار تشویش کیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here