استعمال شدہ جائے نماز یا مصلیٰ کو کسی اور جگہ استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ مسئلے کا حل جانئے

0
98
jaye namaz uses

لاہور(پاکستان247نیوز) ہر مسلمان گھر میں جائے نماز یا مصلیٰ ضرور ہوتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پرانا اوربوسیدہ ہو جانے پر ان کی جگہ نئی جائے نماز یا مصلیٰ آجا تا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ پرانا اور استعمال شدہ مصلیٰ یا جائے نماز کا کیا کِیا جائے۔ کیا اس کا استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں اور اگر استعمال کیا جا سکتا ہے تو کہاں کہاں؟

اس کا جواب مولانا ڈاکٹر عبدرالرزاق اسکندر نے دیتے ہوئے کہا ہے کہ مصلیٰ یا جائے نماز صرف نماز پڑھنے کیلئے ہی استعمال ہوتا ہے اس لئے وہ قابل احترام ہے۔ لیکن جب جائے نماز یا مصلیٰ پرانا اور بوسیدہ ہو جائے توپھر اسی کسی اور قابل احترام کام میں استعمال کر لینا چاہئے یا کسی مہذب طریقے سے ٹھکانے لگا دینا چاہئے۔
مولانا کے مطابق فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ’مسجد کے فرش پر بچھائی جانے والی گھاس پھوس اور مسجد کا کوڑا کرکٹ جو جھاڑو لگانے سے جمع ہوتا ہے ،اسے ناپاک اور بے ادبی کی جگہ نہ پھینکا جائے ، اس لیے کہ وہ قابل تعظیم ہے۔‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here