وزیر خزانہ اسد عمر نے 23جنوری کو منی بجٹ پیش کرنے کا اعلان کر دیا

0
37
asad-umar-budget

اسلام آباد(پاکستان 247نیوز)وزیر خزانہ اسد عمر نے 23جنوری کو منی بجٹ پیش کرنے کا اعلان کر دیا۔انہوں نے بجٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بجلی گیس ٹیکس وصولی میں غریبوں کو مدنظر رکھ کر فیصلے کئے گئے ہیں۔ ٹیکس سے متعلق اقدامات پر منظوری پارلیمنٹ دے گی۔منی بجٹ سے متعلق کراچی چیمبر آئندہ ہفتے اپنی ٹیم اسلام آباد بھیجے گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ منی بجٹ میں کاروبارکیلئے آسانیاں پیدا کرنے کے کچھ فیصلے 23جنوری کو پتا چیں گے۔انہوں نے کہا کہ23جنوری کو فنانس بل پیش کرنے جا رہے ہیں،فنانس بل سمیت دیگر اقدامات بھی کئے جارہے ہیں۔ جنوی کے آخر تک کاروبار میں مزید آسانیاں پید کی جائیں گی۔پروئیویٹ سیکٹر کی اہمیت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ موجودہ صدی میں معیشت کا پہیہ پرائیویٹ سیکٹر چلا رہا ہے،21صدی مین معیشت نجی شعبہ ہی چلائے گا،فنانس بل میں سرمایہ کاری کیلئے اہم مراعات شامل ہیں۔ اسد عمر نے کہا کہ ایسے اقدامات کو ماضی مین نہین دیکھا گیا، اس وجہ سے معیشت کو نقصان پہنچا،کاروبارکیلئے سازگار ماحول ہمارے منشور کا حصہ ہے،جس کیلئے ماہانہ میٹنگ ہوتی ہے،پاکستان میں سیونگ کی شرح دنیامیں سطب سے کم ہے،نئے بجٹ میں کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کیلئے اقدامات نظر آئیں گے،پاکستان کی بچت دنیا کی کم ترین سطح پر ہے ، بچت اور اورسرمایہ کاری کو بڑھاناگا۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ نئے بجٹ میںسرمایہ کاری و بچت کو فروغ دینے کے اقدامات کا اعلان ہو گا،منی بجٹ میں ٹیکس اناملیز کو دور کیا جائے گا،سرمایہ کاری ہوگی تو معیشت آگے بڑھے گی اور برآمدات بڑھیں گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایف بی آر کا ایس آر او کے اجراءکا اختیار ختم کر دیاہے،کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کیلئے ہر ماہ وزیر اعظم کی صدارت میں اجلاس ہوتا ہے۔

وزیر خزانہ نے ہمسائی ممالک کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور ایران کے ساتھ بھی معاشی تعلقات مظبوط کرنا چاہتے ہیں۔بھارت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت نے ہمارے پیغام کا مثبت جواب نہیں دیاشاید بھارت میں الیکشن کی وجہ سے مثبت جواب نہیں ملا،بھار ت میں الیکشن کے بعد وہاں سے مثبت جواب آسکتا ہے۔ اس حوالے سے انہوںنے یہ بھی بتایا کہ وزیر اعظم نے بھارت کے ساتھ بھی تعلقات بہتر کرنے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی باہمی تجارت نہ ہونے کے برابر ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here