کسی کی گمشدہ چیز کااصل مالک کے نہ ملنے کی صورت میں کیا کیا جائے

0
104
tafheem-ul-masail

لاہور(پاکستان247 نیوز)ہم سب کے ساتھ اس طرح کے کئی واقعات رونما ہوتے ہیں کہ اکثر ایسی چیزیں ہمیں ملتی ہیں جن کے مالک کا ہمیں پتا نہیں ہوتاہم وہ چیزیں اپنے پاس رکھنا نہیں چاہتے بلکہ وہ چیز اس کے مالک کو واپس کرنا چاہتے ہیں۔بعض اوقات تو ہم اس چیز کے مالک کے پاس پہنچ جاتے ہیں لیکن کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ہمیں اصل مالک نہیں ملتا اور وہ چیز ہمارے پاس رہ جاتی ہے، اب اس صورت میں سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ کیا ہم وہ چیز فروخت کر کے اس رقم کو غریبوں پر خرچ کرسکتے ہیں ؟یا اصل مالک کے انتظار میں یہ چیز کتنی مدت تک اپنے پاس رکھ سکتے ہیں؟

تو اس سوال کا جواب مفتی منیب الرحمٰن نے تفہیم المسائل میں دے دیاہے، مفتی صاحب کے بقول شریعت کی اصطلاح میں ایسی چیز کو ” لقطہ“ کہتے ہیں ،جو کسی شخص کو راستے میں گری پڑی ہوئی مل جائے۔
حدیث پاک میں ہے”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے لقطہ(گری پڑی چیزوں ) کے بارے میں سوال ہوا،آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لقطہ حلال نہیںہے، جو شخص پڑا مال اٹھائے ،اس کی ایک سال تشہیر کرے اگر مالک آجائے تواسے دےدے اور نہ آئے تو صدقہ کردے“۔(سنن دارقطنی)
مفتی منیب الرحمٰن کے مطابق لُقطہ کی دو اقسام ہیں، پہلی قسم میں وہ چیزیں ہیں جو قیمتی نہیں ہیں اور چیزوں کا مالک ان چیزوں کی تلاش نہیں کرتا ، مثال کے طور پر کھجور کی گٹھلیاں، ردی کاغذ، خالی بوتلیں،انار کے چھلکے اور ردّی کپڑے وغیرہ۔جبکہ دوسری قسم میں قیمتی چیزیں آجاتی ہیںاور ان کا مالک ان چیزوں کی باقاعدہ تلاش کرتا ہے۔
علامہ برہان الدین ابو بکر الفرغانی حنفی لکھتے ہیں : ” لقطہ اس شخص کے پاس امانت ہے جو اسے اٹھائے ،بشرطیکہ اٹھاتے وقت اس نے اِس بات پر کوئی گواہ مقرر کرلیاہو کہ وہ اِس کی حفاظت کرے گا، اور اس کے مالک سے ملاقات ہوجانے کی صورت میں اسے واپس کردے گا،اِس غرض سے افتادہ چیز کو اٹھانے کی شرعاً اجازت ہے ،بلکہ عام علماءکے نزدیک ایسے مال کو اسی طرح پڑارہنے سے اٹھالینا ہی افضل ہے۔اگر اس مال کے ضائع ہوجانے کا خوف ہو تو اسے اٹھالینا واجب ہے“۔ (ہدایہ ، جلد4،ص:336)
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے عصا ، کوڑے ، رسّی اور اِس جیسی چیزوں کے بارے میں رخصت دی ہے کہ کوئی شخص اٹھالے تو اس سے فائدہ اٹھالے “۔(سنن ابو داود :1717)
مفتی منیب الرحمن کے مطابق مختلف فقہاءنے گمشدہ شے متعلقہ شخص تک پہنچانے کیلئے تشہیر کی مدت مختلف بیان کی ہے۔
علامہ برہان الدین ابو بکر الفرغانی حنفی لکھتے ہیں : ”( صاحبِ قدوری نے )فرمایا،اگر وہ لقطہ دس درہم سے کم کا ہو تو چند دنوں تک اس کی شناخت اور تشہیر کراتا رہے اوراگر وہ دس درہم یا اس سے زیادہ کا ہو توایک سال تک اس کی تشہیر کرے۔مصنف نے کہا کہ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ سے یہ ایک روایت ہے۔یہاں جو چند دن تشہیر کرنے کا قول کیاہے ،اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی سمجھ کے مطابق مناسب دنوں تک تشہیر کرے۔امام محمد ? نے اصل (مبسوط ) میں قیمت میں کمی بیشی کے فرق کے بغیر ایک سال کی مدت مقررکی ہے اورامام مالک رحمتہ اللہ علیہ وامام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ،کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جو شخص لقطہ اٹھائے ،وہ ایک سال تک اس کا اعلان کرے “۔حدیث میں بھی تھوڑی چیز کی قیمت کی تفصیل میں جائے بغیر یہ مدت مقرر کی گئی ہے۔
آپ وہ چیزیں اپنے پاس رکھ لیں اور اپنے وسائل کو بروئے کا ر لاتے ہوئے مالک کی تلاش شروع کر دیں، اب آپ پر منحصر ہے کہ آپ کب تک اس چیز کو اپنے پاس رکھ کر مالک کی تلاش جاری رکھ سکتے ہیں۔ مالک نہ ملنے کی صورت میں آپ وہ چیز بیچ کے رقم غریبوں میں تقسیم کر دیں یا وہ چیز ہی صدقہ کر دیں۔
مفتی منیب الرحمٰن کے مطابق آپ اِس مسئلے پر شیخ الحدیث والتفسیر علامہ غلام رسول سعیدی نے ”تبیان القرآن“ جلد5،پرتفصیلی بحث فرمائی ہے ،وہاں مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔مفتی منیب الرحمن کے مطابق آج کے دور میں ایک سے تین ماہ کی مدت کافی ہے البتہ مدت کا انحصار چیز قیمتی ہونے یا نہ ہونے پر منحصر ہے، کہ اس لحاظ سے چیز کا مالک اس چیز کی تلاش میں آئے گا۔ کیونکہ کسی بھی چیز کی لمبے عرصے کیلئے حفاظت بھی ایک مسئلہ ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here