انڈے کے اندر چوزے کے سانس لینے کا معمہ حل ہوگیا

0
10

پشاور(پاکستان ٹوئنٹی فورسیون نیوز) ایک عرصے تک یہ معمہ بنا رہا کہ کیا پہلے دنیا میں مرغی آئی یا پھر انڈہ ، لیکن یہ معمہ حل ہونے کے بعد ہرکوئی یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ بالآخر ننھا چوزہ انڈے کے اندر کیسے زندہ رہتاہے ، سانس کیسے لیتا ہے ۔
انڈے کا چھلکا بظاہر مکمل طور پر بند نظر آتا ہے تاہم اس کے خول کے اندر دو جھلیاں یا پرتیں موجود ہوتی ہیں جن کے درمیان جگہ خالی ہوتی ہے۔ یہاں پر آکسیجن ذخیرہ ہوتی ہے جو کسی بھی جاندار کے سانس لینے کے لیے ضروری ہے۔انڈے کے اندر چوزے کی پرورش مکمل ہونے کا دورانیہ 21 دن ہوتا ہے اور یہ آکسیجن اس دورانیے کے لیے کافی ہوتی ہے۔
لیکن یاد رہے کہ آکسیجن جذب کرنے والے جاندار کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج بھی کرتے ہیں، تو پھر سوال آپ کے ذہن میں آسکتا ہے کہ بند انڈے میں یہ کاربن کہاں جاتی ہے، اگر آپ طاقتور عدسے سے انڈے کا جائزہ لیں تو آپ کو انڈے کی بیرونی سطح پر نہایت ننھے ننھے سے سوراخ ملیں گے۔ بے شمار تعداد میں موجود یہ سوراخ ہی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو انڈے سے باہر نکال کر فضا میں خارج کردیتے ہیں۔
یہاں یہ امر بھی واضح کرتے چلیں کہ چوزے کی پرورش کا مطلوبہ دورانیہ مکمل ہونے کے بعد چوزے انڈے کو اپنی چونچ سے توڑنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی آواز آپ بھی انڈے کو کان سے لگا کر سن سکتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here