وہ دیہات جہاں کوئی اپنی بچی کا نام ”شبنم“ کو تیار نہیں ، وجہ ایسی کہ آپ کو بھی دکھ ہوگا

0
76

نئی دہلی (پاکستان 247نیوز)بچے دنیا میں آتے ہیں تو والدین اور رشتہ دار پیارے پیارے نام رکھنے کی بھی کوشش کرتے ہیں لیکن بھارت میں ایک دیہات ایسا بھی ہے جہاں کوئی ہونیوالے بچوں کا نام شبنم رکھنے کو تیار نہیں، اس کی وجہ نام کی ناپسندیدگی نہیں لیکن اس نام کیساتھ جڑی ایک بھیانک مجرمانہ واردات ہے جس کی وجہ سے ہرکوئی اپنے بچوں کو یہ نام دینے سے گریزکرتاہے۔
روزنامہ جنگ نے بھارتی اخبار کے حوالے سے لکھاکہ بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع مرادآباد میں واقع باون کھیری نامی دیہات میں کوئی شخص اپنی بیٹی کا نام شبنم نہیں رکھتا اور اس کی وجہ 11 سال قبل یہاں ایک دل دہلادینے والا واقعہ تھا۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ14 اور 15 اپریل 2008 کی رات شبنم علی نامی ایک خاتون نے اپنے محبوب سلیم کے ساتھ مل کر اپنے گھر کے تمام 7 افراد کو بے دردی سے قتل کردیا تھا، اس وقت شبنم 7 ہفتے کی حاملہ تھیں۔ سلیم اور شبنم دو الگ الگ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ شبنم نے دو مرتبہ انگریزی اور جیوگرافی میں ماسٹرز کیا ہو ا تھا اور ایک سکول ٹیچر تھیں، ا ن کے والد بھی زمیندار تھے جبکہ سلیم کا تعلق ایک پٹھان گھرانے سے تھا اور اس نے چھٹی جماعت میں آکر پڑھائی چھوڑ دی تھی۔باون کھیری کے لوگوں نے مزید بتایا کہ اس لرزاخیز واقعے کے بعد سے گاﺅں کے تمام لوگوں نے مشترکہ فیصلہ کیا کہ وہ اب کبھی بھی یہاں نا تو ’شبنم‘ کا نام لیں گے اور نہ سنیں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب اس گاﺅں میں کبھی بھی کسی پیدا ہونے والی لڑکی کا نام شبنم بھی نہیں رکھا جائے گا۔


انتظار نامی ایک مقامی شخص نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ وہ شبنم کے گھر سے سامنے رہتے ہیں ،آج تک قتل کی جگہ پر خون کے دھبے موجود ہیں۔ انتظار علی نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق جس وقت شبنم نے اپنے اہل خانہ کو قتل کیا وہ سارے نشے میں تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here