غم خواری نہ کرنا منافقت قرار، حجاج کو گالیاں دینے والے کوکیاپیغام دیا گیا؟ جان لیں

0
60
Hajj

حضرت محمد بن سیرینؒ نے ایک شخص سے پوچھا کہ کیسے ہو؟ اس نے جواب دیا : کیا حال ہوسکتا ہے اس شخص کا جو 500 درہم کا قرض دار ہو، عیال کثیر رکھتا ہو اور ایک پیسہ اس کے ہاتھ میں نہ ہو۔ یہ بات سن کر ابن سیرینؒ اپنے مکان تشریف لے گئے اورایک ہزار درہم لا کر اس کے حوالے کیے کہ 500درہم قرضہ میں دے دو اور 500 درہم انپے اہل و عیال پر خرچ کرو۔ انہوں نے فرمایا کہ ’’ دریافت حال کے بعد عملی طور پر غم خواری نہ کرنا منافقت ہے ۔‘‘ (مخزن اخلاق صفحہ 325)
مخدوم کا اپنے خادم کے حالات سے آگاہ ہونا اور موقع و حالات کے مطابق تسلی ، ہمدردی و ایثار کا اظہار کرنا ازروئے شریعت بے حد ضروری ہے۔ جیساکہ مولانا اشرف علی علی تھانویؒ نے فرمایا ہے کہ ’’ تطییب قلب مسلم او رتسلیہ محزون عبادت عظمیٰ ہے۔‘‘ ( اصلاح انقلاب امت صفحہ 234)
حضرت سہیلؒ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرینؒ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ حجاج کو گالیاں دے رہا تھا۔ اس سے کہا اے خدا کے بندے ! رک جا ، اس لیے کہ دنیا میں تو نے جو صغیرہ گناہ کیا ہوگا تو تجھے آخرت میں حجاج کے دنیا میں کئے ہوئے کبیرہ گناہ سے بڑا لگے گا اور جان لے کہ رب تعالیٰ حاکم عادل ہے۔ اگر حجاج سے اس ظلم کا بدلہ لے گا تو حجاج پر جس نے ظلم کیا ہوگا ، اس کا بدلہ بھی اس کو دلوائے گا، لہٰذا اپنے آپ کو کسی کو گالیاں دینے میں مشغول مت کرو۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here