قرآن پاک پر اعراب لگوانے والا وہ شخص جس کے دورمیں مسلمانوں کی فتوحات چین سمیت ہند تک پہنچ گئیں لیکن اس کاانجام کیاہوا؟ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ ۔ ۔ ۔

0
65
Quran-Pak-islam-in-hindustan
حجاج بن یوسف کو عبدالملک نے مکہ ، مدینہ ، طائف اور یمن کا نائب مقرر کیا تھا اور اپنے بھائی بشر کی موت کے بعد اسے عراق بھیج دیا، جہاں سے وہ کوفہ میں داخل ہوا۔ ان مقامات میں بیس سال حجاج کا عمل دخل قائم رہا، اس نے کوفہ میں بیٹھ کر زبردست فتوحات کیں، اس کے دور میں فتوحات کا دائرہ سندھ اور ہند کے دوسرے علاقوں تک پھیل گیا، حتیٰ کہ مسلمان چین تک پہنچ گئے تھے۔ یہی وہ شخص ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے قرآن کریم پر اعراب لگوائے ، خدا نے اسے بڑی فصاحت و بلاغت اور شجاعت سے نوازا تھا، یہ حافظ قرآن تھا، شراب نوشی اور بدکاری سے بچتا تھا۔ وہ جہاد کا دھنی اور فتوحات کا حریص تھا۔ مگر اس کی ان ساری خوبیوں پر اس کی ایک برائی نے پردہ ڈال دیا اور وہ برائی تھی؟ ظلم !۔۔۔
حجاج ان تمام خوبیوں کے باوجود بہت بڑا ظلم تھا، اس نے اپنی زندگی میں خونخوار درندے کا روپ اختیار کرلیا تھا، ایک طرف اس کے دور کے نامور مجاہدین قتیبہ بن مسلم ، موسیٰ بن نضیر اور محمد بن قاسم کفار سے بر سر پیکار تھے اور دوسری طرف وہ خود خدا کے بندوں اولیاء اور علماء کے خون سے ہولی کھیل رہا تھا۔
امام بن کثیرؒ نے ’’ البدایہ ولنہایہ ‘‘ میں ہشام بن احسان سے نقل کیا ہے کہ حجاج نے ایک لاکھ بیس ہزار انسانوں کو قتل کیا ہے، اس کے جیل خانوں میں ایک ایک دن میں اسی اسی ہزار قیدی بیک وقت رہے ، جن میں تیس ہزار عورتیں ہوتی تھیں۔ اس نے جو آخری قتل کیا ہے وہ عظیم تابعی اور زاہدو پارسا انسان حضرت سعید بن جبیرؒ کا قتل تھا۔ انہیں قتل کرانے کے بعد حجاج پر وحشت سی سوارہوگئی تھی۔ وہ نفسیاتی مریض بن چکا تھا، جب وہ سوتا تھا تو حضرت سعید بن جبیرؒ اس کا دامن پکڑ کر کہتے تھے؛ اے دشمن خدا ! آخر تو نے مجھے کیوں قتل کیا، میرا کیا جرم تھا؟ ۔۔۔ جواب میں حجاج کہتا تھا مجھے اور سعید کو کیا ہوگیا ہے، مجھے اور سعید کو کیا ہوگیا ہے۔ یہ وہ اندر کی آگ تھی جو جب بھڑک اٹھتی ہے تو امن و سکون سب کچھ راکھ کر دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حجاج کو وہ بیماری لگ گئی تھی ، جسے زمہریری کہا جاتا ہے۔ سخت سردی کلیجے سے اٹھ کر سارے جسم پر چھا جاتی تھی اور وہ کانپتا جاتاتھا، آگ سے بھری ہوئیں انگیٹھیاں اس کے پاس لائی جاتیں اور اس قدر قریب رکھ دی جاتیں کہ اس کی کھال جل جاتی ، مگر اسے احساس نہیں ہوتا تھا۔ حکیموں کو بلایا تو انہوں نے بتایا کہ پیٹ میں سرطان (کینسر ) ہے۔ ایک طبیب نے گوشت کا ٹکڑا لیااور اسے دھاگے کے ساتھ باندھ کر حجاج کے حلق میں اتار دیا ، تھوڑی دیر کے بعد دھاگے کو کھینچا تو اس گوشت کے ٹکڑے کے ساتھ بہت سارے کیڑے لپٹے ہوئے تھے۔ حجاج جب مادی تدبیروں سے مایوس ہوگیا، تو اس نے حضرت حسن بصریؒ کو بلوایا اور ان سے دعا کی درخواست کی وہ آئے اور حجاج کی حالت دیکھ کر رو پڑے اور فرمانے لگے ’’ قد نھیتک ان تتعرض للصالحین ‘‘ میں نے تجھے منع کیا تھا کہ نیک بندوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرنا، انہیں تنگ نہ کرنا ، ان پر ظلم نہ کرنا مگر تو باز نہ آنا‘‘۔

روزنامہ امت کے مطابق آج حجاج باعث عبرت بنا ہوا تھا۔ وہ اندر سے بھی جل رہا تھا اور باہر سے بھی جل رہا تھا۔ وہ اندے سے ٹوٹ پھوٹ چکا تھا۔ چنانچہ وہ حضرت سعید بن جبیرؒ کو قتل کرنے کے بعد زیادہ دن تک زندہ نہ رہ سکا اور صرف چالیس دن کے بعد وہ بھی دنیا سے رخصت ہوگیا، مگر حضرت سعید اور حجاج کی موت میں بڑا فرق تھا۔ حضرت سعید کو شہادت کی موت نصیب ہوئی،وہ جب دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کا دل مطمئن تھا اور چہرے پر تبسم تھا ، لیکن حجاج جب دنیا سے جا رہا تھا ، اندر کی آگ میں جل رہا تھا۔ چہرے پر ندامت کی ظلمت تھی۔ اسے اس کا ایک ایک ظلم یاد آرہا تھا۔

حضرت سعیدؒ کی شہادت پر تمام صلحاء اور علماء افسردہ تھے ، لیکن حجاج کی موت پر خدا کے نیک بندوں نے اطمینان کا سانس لیا۔ حضرت ابراہیم نخعیؒ نے حجاج کی موت کی خبر سنی تو خوشی سے روپڑے، مرنے کے بعد اس ڈر سے اس کی قبر کے تمام نشانات مٹا دیئے گئے تاکہ لوگ اس کی لاش کو باہر نکال کر جلا ڈالیں۔ یہ اند یشے اس شخص کی قبر کے بارے میں ہو رہے تھے جس کے سامنے اس کی زندگی میں لوگ کھڑے ہوتے تھے تو ان پر لرزہ طاری ہوجاتا تھا اور لوگ اس کے ڈرسے دیوانے جایا کرتے تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here