لاہور میوزیم کے دروازے کا مجسمہ اور اس کی حقیقت

0
133
lahore museum statue

تحریر: عامرمحمد

پنجاب یونورسٹی لاہور کے ایک طالبعلم ارتباط الحسن چیمہ جو کہ شعبہء فائن آرٹس کا گریجوایشن کا طالبعلم تھا حال میں ہی اس نے گریجوایشن مکمل کی ۔ اس نے گریجوایشن کے فائنل میں ایک تھیسزتحریر کیا جس کا عنوان تھا ” فیروسٹی (درندگی یا وحشیانہ پن) ۔ تھیسز کی آرٹ سٹیٹمنٹ تھی کہ “جب انسان اپنی اصلاح چھوڑ دیتا ہے تو وہ وحشی بن جانتا ھے”۔

اس میں پیغام یہ تھا کہ جب انسان اصلاح کے لئے اپنے باطن کا مشاھدہ نہیں کرتا تو وہ انسان سے درندہ بننے لگتا ہے۔

اس طالبعلم نے اپنے تھیسز کے ہپیغام کو متاثرکن کرنے کے لئے ایک مجسمہ تیار کیا ۔ یہ مجسمہ ایک ایسے انسان کا تھا جو بتدریج کسی وحشی درندے میں تبدیل ھو رھا تھا۔ یہ واقعی ایک بھرپور قسم کا پیغام تھا لیکن اگر کوئی اس کو تھیسز کی نظر سے دیکھتا تب ایسا ھوتا۔

یونیورسٹی کے استذپہ کی جانب سے اس مجسمے کو بہت زیادہ پسند کیا گیا اور اسے ایک یادگار کے طور پہ عجائب گھر کے احاطے میں نصب کر دیا گیا۔ میرے خیال میں اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ فن کا ایک نمونہ تھا یونورسٹی والے اسے توڑنا نہیں چاہتے تھے چنانچہ اسے عجائب گھر کے احاطے میں لگا دیا گیا۔

جو لوگ پنجاب یونورسٹی لاھور میں زیرتعلیم رہ چکے ہیں وہ جانتے ہیں کہ پنجاب یونورسٹی کا شعبہ آرٹس انارکلی لاھور کے قریب ھے اور یہ اولڈ کیمپس لاھور کے عجائب گھر کے بالکل سامنے ھے۔

میں بھی جب پنجاب یونیورسٹی میں زیرتعلیم تھا تو اپنے دوستوں سے ملنے کے لئے کبھی کبھار نیوکیمس سے اولڈ کیمپس جایا کرتا تھا۔ شعبہ فائن آرٹس کے طلباء کو ھم تو اکثر دیکھتے تھے اور آپ بھی آج دیکھ سکتے ہیں کہ طلباء اولڈکیمپس کے سامنے والی سڑک پٌر بیٹھ کر لائیو پینٹنگز تخلیق کیا کرتے ہیں۔

بات ساری اتنی تھی ۔ لیکن مجھے بھی یہ مناسب نہیں لگا تھا کیونکہ مجسمہ سازی اسلام کے خلاف ھے اگر طالبعلم نے اسے اپنے تھیسز کے لئے تخلیق کیا تھا تو یونیورسٹی انتظامیہ کو اسے ضائع کر دینا چاہئیے تھا اسے اس طرح نمائش کے طور پہ نہیں پیش کرنا چاہئیے تھا۔ ویسے بھی یہ ھمارا معاشرہ اس طرح کا نہیں ھے جو ان چیزوں کو ھضم کرسکے۔

جیسے ہی اسے عجائب گھر میں نصب کیا گیا۔ فورا” سوشل میڈیا پر آگ سی لگ گئی ۔ پرانے پاکستان والے نئے پاکستان کے طعنے دینے لگ گئے۔ ایمان جو پہلے ہی خطرے میں تھے اور زیادہ خطرے میں پڑنے لگے۔

پہلے تو ان سے پوچھنا چاہئیے جو یہ کہتے ہیں یہ شیطان کا مجسمہ ھے بھائی لوگو تم نے شیطان کو کہاں دیکھ لیا جو اسے فورا” پہچان گئے ھو؟۔

یہ فتنوں کا دور ھے فتنوں کا ایک طوفان سا آیا ھوا ھے ۔ ایسے میں جھوٹی سچی افواھوں پہ کان دھرنے کی بجائے خود حقیقت جاننے کی کوشش کیا کریں۔ ایسے میں سب سے بہتر تو یہی ھے کہ خاموشی اختیار کر لی جائے ۔

نوٹ: یہ تحریر لکھاری کا ذاتی موقف ہے ، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here