’والدین بننے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ۔ ۔ ۔‘سائنسدان بالآخر کامیاب ہوگئے، مردوں کی پریشانی حل کردی

0
55
baby

نیویارک (پاکستان ٹوئنٹی فورسیون نیوز) اولاد کا حصول ہرشادی شدہ جوڑے کی اولین خواہش ہوتی ہے لیکن بعض اوقات صحت کے مسائل آڑے آجاتے ہیں جس کی وجہ سے اولاد جیسی نعمت سے محرومی کے علاوہ عائلی زندگی بھی اجیرن بن جاتی ہے لیکن اب نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ امریکہ نے کہا ہے کہ خواتین کے مقابلے میں مردوں میں ڈپریشن کا عمل ان کے صاحبِ اولاد بننے میں اہم رکاوٹ بن سکتا ہے ، جس کے نتیجے میں ان کی بیویوں کے حاملہ ہونے کے امکانات 60 فیصد تک کم ہوسکتے ہیں۔
این آئی ایچ کے مطابق ایک جانب تو مردوں کا ذہنی تناو  ان کے باپ بننے میں رکاوٹ ہے تو دوسری جانب خواتین کا ڈپریشن ان پر کوئی خاص اثر نہیں کرتا تاہم ایک طرح کی ڈپریشن دور کرنے والی دواو ں کے بے تحاشا استعمال سے خواتین کے حمل ضائع ہونے کا امکان ساڑھے تین گنا تک بڑھ جاتا ہے۔
سروے سے مردوں میں ڈپریشن اور اولاد سے محرومی کے درمیان ایک اہم تعلق دریافت ہوا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ ڈپریشن جیسی خطرناک کیفیت کے شکار افراد مردوں میں لاولد رہنے کا خدشہ 60 فیصد تک ہوتا ہے تاہم اس سے قبل اولاد سے محرومی کے لیے اکثر تحقیقات اور مطالعات میں خواتین پر ہی توجہ رکھی گئی تھی۔بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ڈپریشن اور ذہنی تناو¿ سے مردوں کے مادہ حیات (اسپرم) پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور یوں وہ باپ نہیں بن سکتے۔ یہ تحقیق ایک بالکل نئے پہلو کو ظاہر کرتی ہے کہ مرد اگر صاحبِ اولاد نہ ہوسکے تو اس کی ایک بڑی وجہ ڈپریشن بھی ہوسکتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here