سانحہ ساہیوال کی جوڈیشل انکوائری کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست پر سماعت، آئی جی پنجاب جمعرات کو طلب

0
65

لاہور(پاکستان247نیوز)سانحہ ساہیوال کی جوڈیشل انکوائری کیلئے دائردرخواست پر سماعت آج لاہور ہائیکورٹ میں ہوئی جس میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب کو جمعرات کے روز طلب کر لیا ہے۔

ایڈووکیٹ آصف کی طرف سے دائر کی گئی درخواست میں وزیراعظم عمران خان، پنجاب حکومت اور آئی جی پنجاب سمیت دیگرکو فریق بنایا گیا ہے۔ ایڈووکیٹ آصف کے مطابق محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اہلکاروں نے ساہیوال بائی پاس کے قریب خاندان سے بھری کار پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک معصوم بچی، ایک جوان عورت سمیت چار افراد کو قتل کر دیا گیا۔درخواست گزار کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگرعدالت کو روکا نہ جائے تو عدالت جوڈیشل کمیشن بنناے کا حکم دے سکتی ہے، یہ لوگوں کی زندگی کا مسئلہ ہے۔ ہائی کورٹ کے پاس دائرہ اختیار ہے۔

جس پرچیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ اگر شہادتیں ریکارڈ نہیں ہو رہیں تو عدالت حکم دے گی۔ عدالت نے درخواست گزار کو جوڈیشل کمیشن کے لیے حکومت سے رجوع کرنے کی ہدایت بھی کردی ہے۔درخواست میں بتایا گیا کہ سی ٹی ڈی اہلکاروں نے ایک شریف فیملی کو دہشت گرد قرار دے کر قتل کر دیاجس کی مکمل چھان بین سمیت اعلی سطح پر تحقیقات لازمی ہے۔درخواست گزار ایڈووکیٹ آصف نے بتایا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تفتیش سے حقائق سامنے نہیں آئیں گے لہذا ساہیوال واقعے کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقائق سامنے آئیں اور ذمہ داروں کا تعین ہوسکے۔

اس کے علاوہ درخواست میں عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو ساہیوال واقعے کی عدالتی تحقیقات کے لیے فوری طور پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم دے۔ خیال رہے کہ سانحہ ساہیوال میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران چار افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کردیا گیا تھا۔ جن میں ما ں ، 13سالہ بیٹی، باپ اور اس کا دوست شامل تھے۔ فائرنگ کے نتیجے میں تین بچے بھی زخمی ہوئے تھے۔ سی ٹی ڈی حکام کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ پولیس نے خفیہ اطلاع ملنے پر آپریشن کیا تھالیکن بعد ازاں یہ ثابت ہو گیا کہ کار میں موجود دو میاں بیوی اور ان کے بچے معصوم اور نہتے تھے اور انہوں نے پولیس کی کارروائی کے جواب میں کوئی مزاحمت نہیں کی لیکن اس کے باوجود بھی فائرنگ کر کے انہیں قتل کر دیا گیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here