بابا رتن ہندی ،سات سو سال تک زندہ رہنے والے ہندوستانی صحابی کے بارے جانئے

0
99
baba ratan hindi

نئی دہلی(پاکستان247نیوز)آپ جان کر نہایت حیران ہوں گے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ایک صحابی ہندوستانی شہر بھٹنڈہ میں سپرد خاک ہیں۔ہندوستانی صحابی کا نام ”بابارتن ہندی “ہے جن سے آج بھی لوگ فیض حاصل کر رہے ہیں۔

ہندوستان کے شہر بھٹنڈہ سے تعلق رکھنے والے صحابی بابا رتن ہندی کا اصل نام رتن ناتھ ابن نصر ہے۔ ایک روایت بابا رتن ہندی ایک تاجر تھے جو اپنی تجارت کے سلسلے میں عرب بھی جایا کرتے تھے۔آپ رضی اللہ عنہ کا ذکر علامہ ابن حجر عسقلانی کی تصنیف’الصحابہ جلد اول‘ میں بھی ملتا ہے۔اس کے علاوہ شاہ ولی اللہ اورمعروف مصنف اشفاق احمد نے بھی اپنی مشہور زمانہ کتاب زاویہ میں بھی ان کا ذکر کیا ہے جبکہ بابا رتن ہندی کا نام علاوالدین سمنانی نے اپنی کتاب فصل الخطاب میں بھی ان کا ذکر کیا ہے۔لیکن اس سے آگے کی روایا ت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

روایت کے مطابق رتن ہندی جوانی میں عرب کا سفر کر رہے تھے جس کے دوران انہوں نے ایک ساتھ سالہ خوبصورت کمسن چرواہے کا مشکل میں دیکھ کر اس کی مدد کی تو اس حسین و جمیل بچے نے آپ کو حیرت انگیز طورپر سات بار دعا دی کہ ’اللہ تمہیں طویل عمر عطا کرے‘۔

آپ عرب سے واپس آکر اپنے کاروبار زندگی میں مصروف ہو گئے۔ تقریباً 50سال بعد ہند والوں نے شق القمر کا واقعہ دیکھا جو خوب مشہور ہوا۔ ایک عربی قافلے کی طرف سے انہیں پتا چلا کہ یہ کام وہاں قیام پذیر ایک’اوتار‘ (الٰہی نمائندے)نے کیا ہے جس پر آپ کے دل میں ان کی زیارت کا شوق پیدا ہوا اور آپ نے سامان تجارت لیا اور عرب کے سفر پر روانہ ہو گئے۔

مکہ پہنچنے پر آپ کو معلوم ہوا کہ چاند کو دوٹکڑے کرنے والی شخصیت وہاں سے مدینہ چلی گئی ہے اور اب وہیں قیام پذیر ہے۔چنانچہ رتن ہندی نے مدینہ کا رخ کر لیا اورسیدھے مسجدِ نبوی جاپہنچے تو دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم اصحاب کے گروہ میں بیٹھ کر انہیں تعلیم دے رہے ہیں۔ رتن کی آمد پر سرکار صلی اللہ علیہ والہ وسلم ا ن کی جانب متوجہ ہوئے اوربابارتن ہندی سے ان کے آنے کا مقصد دریافت فرمایا جس کا جوات دیتے ہوئے بابا رتن ہندی نے عرض کی کہ آپ کا معجزہ دیکھنا چاہتا ہوں۔بابا رتن ہندی کی اس بات پراللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم شفقت سے مسکرائے اور فرمایا” اے رتن ہندی! کیا بچپن میں جو میں نے تجھے طویل عمر کی دعا دی تھی ، کیاوہ مجھ پر ایمان لانے کے لیے کافی نہیں ہے“اللہ کے رسول کے یہ الفاظ سنتے ہی رتن ناتھ نے کلمہ حق بلند کیا اور حضرت رتن رضی اللہ تعالی ٰ عنہ قرار پائے۔

جس کے بعدکی مختلف روایات سامنے آتی ہےں ۔ کچھ کے مطابق آپ وہیں قیام پذیر ہو گئے اور پوری زندگی حضور صلی اللہ وعلیہ والہ وسلم کی خدمت میں گزاری جبکہ کچھ کے مطابق بابا رتن ہندی وہاں کچھ دن قیام کرنے کے بعد واپس آگئے اور ہندوستان میں اسلام کی اشاعت اور تبلیغ شروع کر دی۔

شیخ رضی الدین علی ابن سعید لکھتے ہیں کہ جب وہ 624ہجری میں ہند کے دورے پر گئے تو حضرت ہندی حیات تھے جنہوں نے خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مجلس کا آنکھوں دیکھا حال ان کے گوش گزر کیا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here