جہنم کا منظراور اس میں لوگ کیسے تھے؟ خواب میں دیکھا منظر آپ بھی جانئے

0
70

سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہؓ میں سے جو لوگ نبی اکرمﷺ کے عہد میں خواب دیکھتے تھے ، وہ نبی کریمﷺ سے بیان کر تے تھے۔ پھر آپﷺ اس کی تعبیر بتا دیتے تھے جیسا کہ اللہ چاہتا۔ میں اس وقت نو عمر تھا اور مسجد ہی میرا گھر تھا۔ میں نے اپنے دل میں سوچاکہ اگر مجھ میں خیر ہوتی تو یقینا میں بھی ان لوگوں جیسے خواب دیکھتا۔ چنانچہ ایک رات میں لپٹا تو میں نے دعا کی : اے اللہ ! اگر تو مجھ میں کوئی بھلائی چاہتا ہے تو مجھے کوئی خواب دکھا۔ میں اسی حال میں سوگیا۔ میرے پاس دو فرشتے آئے۔ ان دونوں کے ہاتھوں میں لوہے کے ہتھوڑے تھے۔ وہ مجھے جہنم کی طرف لے جا رہے تھے۔ میں ان دونوں فرشتوں کے درمیان تھا اور اللہ سے دعا کرتا جا رہا تھا : اے اللہ ! میں جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، پھر مجھے ایک اور فرشتہ ملا۔ اس کے ہاتھ میں بھی لوہے کا ایک ہتھوڑا تھا۔ اس نے کہا : ڈرو نہیں ، اگر تم نماز زیادہ پڑھو تو تم کتنے اچھے آدمی ہو، چنانچہ وہ مجھے لے کر چلے اور جہنم کے کنارے لے جا کر کھڑا کر دیا۔ جہنم ایک گول کنویں کی طرح تھا اور کنویں کے مٹکوں کی طرح اس کے بھی مٹکے تھے اور ہر دو مٹکوں کے درمیان ایک فرشتہ تھا جس کے ہاتھ میں لوہے کا ایک ہتھوڑا تھا۔ میں نے اس میں کچھ لوگ دیکھے۔ انہیں زنجیروں سے باندھ کر الٹا لٹکا دیا گیا تھا۔ ان کے سر نیچے تھے۔ ان میں سے بعض قریش کے لوگوں کو میں نے پہچان لیا ۔ پھر وہ مجھے دائیں طرف لے کر چل دیئے۔
میں نے بعد میں اس کا ذکر اپنی بہن حفصہؓ سے کیا اور انہوں نے اس کا تذکرہ نبی اکرمﷺ سے کردیا۔ آپؓ نے فرمایا : ” عبداللہ کتنا اچھا انسان ہے ، اگر یہ رات کو تہجد پڑھے“۔ نافع کہتے ہیں : عبداللہ بن عمرؓ نے جب سے یہ خواب دیکھا وہ کثرت سے نفل نماز پڑھا کرتے تھے“۔ (صحیح البخاری ، حدیث : 70297028، وصحیح مسلم ، حدیث: 2479)
روزنامہ امت کے مطابق اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آدمی اچھے خواب کی تمنا کر سکتاہے۔ پھر اچھائی کے جو کام خواب میں دکھائے جائیں، اس کی مطابق عمل بھی کرے۔ خصوصاً تہجد کی نماز پڑھنے کے قرآن و حدیث میں بڑے فضائل آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبرﷺ سے کہا ، ” رات کی نماز میں کھڑے رہا کر و ، مگر کم “۔ (المزمل 2:73) ”درحقیقت رات کا اٹھنا نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر اور بات کرنے میں زیادہ درستی والا ہے۔“ (المزمل 6:73)
مذکورہ بالا خواب میں سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ کو دائیں طرف لے جانے سے مراد یہ تھا کہ یہ آدمی نیک اور جنتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here