حضرت علی ؓ کی شان میں گستاخی، حضرت سعد ؓ نے کیا بددعا دی جو فوری سنی گئی ،پھر انجام کیا ہوا؟ آپ بھی جانئے

0
297

حضر سعدؓ پیدل چلے جا رہے تھے۔ ان کا گزر ایک آدمی کے پاس سے ہوا۔ وہ حضرت علیؓ ، حضرت زبیرؓ اور حضر طلحہؓ کی شان میں نامناسب الفاظ کہہ رہا تھا۔ حضرت سعدؓ نے اس سے کہا : ”تم ایسے لوگوں کو برا کہہ رہے ہو ، جنہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت سے فضائل اور انعامات مل چکے ہیں۔ اللہ کی قسم ! یا تو تم انہیں برا کہنا چھوڑ دو ، نہیں تو میں تمہارے لیے بد دعا کر وں گا “۔ اس نے جواب میں کہا : ” یہ تو مجھے ایسے ڈرا رہے ہیں جیسے کہ یہ نبی ہوں “۔ حضرت سعدؓ نے اس کے لیے یہ بد دعا فرمائی : ”اے اللہ ! اگر یہ ان لوگوں کو برا کہہ رہا ہے ، جنہیں تیرے طرف سے بہت سے فضائل اور انعامات مل چکے ہیں تو تُو اسے عبرتناک سزا دے“۔ ابھی انہوں نے یہ الفاظ ادا کیے تھے کہ ایک بختی اورنٹنی تیزی سے آئی۔ لوگ اے دیکھ کر ادھر ادھر ہٹ گئے۔ اس اونٹنی نے اس شخص کو روند ڈالا۔ یہ دیکھ کر لوگ حضرت سعد ؓ کی طرف لپکے اور کہنے لگے : ” اے سعد ! اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کر لی“۔ روایت میں ہے کہ حضرت قیس بن ابی حازمؒ مدینہ منورہ کے ایک بازار میں چلے جا رہے تھے ۔ ایک مقام پر انہوں نے بہت سے لوگوں کو جمع دیکھا۔ ان کے درمیان ایک آدمی اپنی سواری پر سوار تھا اور وہ حضرت علیؓ کو برا کہہ رہا تھا۔ اتنے میں حضرت سعد ابن ابی وقاصؓ وہاں آگئے۔ انہوں نے پوچھا ۔ ”یہ کیا ہو رہا ہے “۔ روزنامہ امت کے مطابق ایک شخص نے انہیں بتایا : ” یہ شخص جو گھوڑے پر سوار ہے ۔ حضرت علیؓ کو برا کہہ رہا ہے “۔ یہ سن کر حضرت سعدؓ آگے بڑھے۔ انہوں نے انہیں راستہ دے دیا۔ آپ نے اس کے نزدیک پہنچ کر کہا: ” اے شخص ! تو کس وجہ سے حضرت علیؓ کو برا کہہ رہا ہے۔ کیا وہ بچوں میں سے پہلے مسلمان نہیں ہیں ۔۔۔ کیا انہوں نے سب سے پہلے حضورﷺ کے ساتھ نماز نہیں پڑھی ۔۔۔ کیا وہ لوگوں مین سب سے بڑے عالم اور سب سے بڑے زاہد نہیں ہیں“۔ حضرت سعدؓ نے حضرت علیؓ کے اور بتہ سے فضائل بیان کئے اور یہ بھی فرمایا ” کیا وہ حضور کے داماد نہیں ہیں ، کیا غزوات میں حضور کا جھنڈا ان کے پاس نہیں ہوتا تھا“۔ اس کے بعد آپؓ نے قبلے کی طرف منہ کر کے اپنے ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا کی : ” اے اللہ ! اگر یہ آدمی میرے ایک دوست کو برا کہہ رہا ہے تو ان لوگوں کے ہٹنے سے پہلے ، انہیں اپنی قدرت رکھا دے “۔ چنانچہ ان لوگوں کے وہاں سے ہٹنے سے پہلے ہی اللہ کی قدرت ظاہر ہوئی ۔ اس کی سواری کے پاﺅں زمین میں دھنسنے لگے۔ جس سے وہ سر کی بل پتھروں پر گرا۔ اس کا سر پھٹ گیا اور اس کا بھیجا باہر نکل آیا۔ وہ وہیں تڑپ تڑپ کر مر گیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here