ملک الموت عدل و انصاف کیوں نہیں کرتے ؟ روح قبض کرنے کے واقعات جوآپ کو موت یاد دلادیں

0
48

حضرت وہب سے روایت ہے کہ ایک نیک بندے کے پا س ملک الموت نے آکر کہا کہ میں تم سے ایک راز کی بات کہتا ہوں ۔
بزرگ نے فرمایا ، کہو کیا بات ہے ۔ جواب دیا کہ میں ملک الموت ہوں ۔
یہ سن کر بزرگ کا چہرہ خوشی سے سرخ ہوگیا۔ فرمایا ، مرحبا خوش آمدید ، میں مدت سے تمہارا منتظر تھا۔ تشریف لائیے۔ اللہ تعالیٰ کا جو حکم ہے اس کو کیجئے۔ ملک الموت فرمانے لگے، اگر کوئی حاجت ہو تو پورا کر سکتا ہے۔ انہوں نے فرمایا ، مجھے دو رکعت نماز اور پھر موت سے زیادہ کوئی حاجت نہیں۔ چنانچہ وضو کیا اور دو رکعت نماز ادا کی اور پھر سجدہ شکر میں گرگئے اور اسی حالت میں روح مبارک قبض ہوگئی ۔
حضرت سلیمانؑ نے ایک بار ملک الموت سے فرمایا ، تم بندوں کے ساتھ عدل و انصاف کیوں نہیں کرتے ؟ کسی کے سامنے کسی شکل میں اور کسی کے سامنے کسی شکل میں جاتے ہو۔ ملک الموت نے عرض کیا ، اے اللہ کے نبیﷺ ! یہ بات میرے اختیارات سے باہر ہے ۔ میرے پاس ہر آدمی کے متعلق احکامات و ریکارڈ من جانب اللہ موجود ہوتے ہیں۔ بس ان کے تحت عمل کرتا ہوں ۔ (بحوالہ کیمائے سعادت ص 772امام غزالیؒ)۔
روزنامہ امت کے مطابق دراصل ان سچے اور مستند واقعات کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انسان ہر وقت موت کو یاد رکھے اور اس لمبے اور پر خطر سفر کی تیاری کرے ، جس سفر سے آج تک کوئی واپس نہیں آیا اور نہ آئے گا، تاقیامت ۔ حضورﷺ کا ارشاد گرامی ہے ، جس کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن حکیم کی کثرت سے تلاوت اور موت کی یاد سے دلوں کا زنگ دور ہوتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here