وہ ترک باشندہ جس کی تنخواہ بندہوگئی ، نان شاپ پر نوکری بھی بند لیکن پھر ایک نقاب پوش گھڑ سوار آیا اور ۔ ۔۔

0
121

ابراہیم بن قاسم کہتے ہیں : ”مدینہ السلام “ میں ہمارے گھر کی مشرقی جانب ایک ترکی باشندہ رہتا تھا۔ اسے خلیفہ مکتفی باللہ کی طرف سے ماہانہ فوجی و ظیفہ ملا کر تا تھا۔پھر ایک وقت ایسا آیا کہ اس کی تنخواہ آنا بند ہوگئی اور اس کے حالات تبدیل ہوگئے ، یہاں تک کہ وہ ہمارے محلے کے ایک نان بائی کے پاس بیٹھنے لگا کہ شاید یہاں سے کوئی آسرا بن جائے۔
چنانچہ وہ اس نان بائی کا ہاتھ بٹا دیتا اور اس کے بدلے میں وہ اسے پانچ رطل (ایک وزن ) کی روٹی دے دیتا جس سے اس کی گھر والوں کا گزارا ہو جاتا۔ نان بائی کا بہت سا قرض بھی اس کے سر پر چڑھ گیا ، جس کی وجہ سے نان بائی کا دل بھی اس سے تنگ ہوگیا۔ ایک دن نان بائی نے تنگ آکر اسے دکان پر آنے سے منع کردیا۔ وہ غم زدہ بیٹھا ہو اتھا اور میں اس کے پاس سے گزرا۔ اس نے مجھے اپنی بپتا سنائی:
”میرے حالات نے مجھے روٹی خریدنے والے ہر شخص سے صدقہ مانگنے پر مجبور کر دیا تھا۔ جب بھی میں اس کی ہمت کرتا کہ کسی سے کہوں، میری عزت نفس مجھے یہ کام کرنے سے روک لیتی تھی“۔ ہم اس طرح نان بائی کی دکان کے قریب بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ اچانک ایک نقاب پوش گھڑ سوار نمودار ہوا اور اس نے آکر اس ترک باشندے کے بارے میں دریافت کیا۔ ہم نے بتایا کہ یہ ہے وہ۔
اس گھڑ سوار نے کہا: ”کھڑے ہوجاﺅ! “۔ ترکی باشندے نے کہا: ”کہا جاناہے ؟“۔
کہنے لگا: ” بیت المال ! تمہاری اور تمہارے کچھ ساتھیوں کی دوماہ کی تنخواہ نکلتی ہے ، وہ وصول کرلو“۔
وہ اس گھڑ سوار کے ساتھ چلا گیا اور کچھ دیر کے بعد واپس لوٹ آیا۔ دو سو چالیس (240) دینار اسے تنخواہ میں ملے ، جس سے اس نے اپنے گھریلو حالات کی اصلاح کی ، قرض چکایا اور جانور ، اسلحہ اور زمین وغیرہ خرید کر واپس فوج میں چلا گیا ۔ پھر اس کے حالات بھی صحیح ہوگئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here