ماں کا دودھ پینا بچے کیلئے مفید لیکن ماں کی صحت پر کیا اثرپڑتاہے؟ وہ بات جو شاید کسی لڑکی کو معلوم نہیں

0
43
happy-mother-with-baby

ڈیرہ اسماعیل خان (پاکستان ٹوئنٹی فورسیون نیوز)یہ تو آ پ نے بھی سن رکھا ہوگا کہ بچوں کے لیے ماں کے دودھ کا متبادل کوئی نہیں اور موجودہ دور میں بیشتر بچے چھلے تک ہی دودھ پیتے ہیں لیکن کم ازکم ایک سال تک مائوں کو بچے کو اپنادودھ پلانا چاہیے ، یہ نہ صرف بچے کے لیے مفید ہے بلکہ ماں کی اپنی صحت کیلئے بھی ضروری ہے ۔
عالمی ادارہ صحت ابتدائی 6 ماہ تک صرف چھاتی کا دودھ پلانے پر زور دیتا ہے جس کے بعد دیگر چیزیں غذا میں شامل کی جاسکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس سے بیضہ دانی اور چھاتی کے کینسر کا خطرہ کم ہوتا ہے، پیدائش کے بعد رحم سے خون آنے میں کمی ہوتی ہے اور اضافی کیلوریز جلتی ہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق دودھ ماؤں کی ایک ایسی سُپر پاور ہے جسے زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جانا چاہیے۔محققین کہتے ہیں کہ چونکہ انسان چھاتی کا دودھ پلانے کے بعد بھی ایک طویل عرصے تک بچوں کی نگہداشت جاری رکھتے ہیں اس لیے ماں کے دودھ کی کوئی ایکسپائری ڈیٹ نہیں ہوتی۔ چنانچہ یہ سلسلہ ماں اور بچے کی رضامندی سے جاری رکھا جا سکتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here