اگر جماعت شروع ہوجائے رکوع میں شامل ہونے کیلئے دوڑ کرآسکتے ہیں یا نہیں؟ مذہبی اعتبار سے مسئلے کا حل

0
170

کراچی (پاکستان 247نیوز) عمومی طورپر دنیا داری کے امور میں مصروف رہنے کی وجہ سے اکثرحضرات نماز میں تاخیر سے پہنچتے ہیںلیکن رکوع چھوٹ جانے کے خوف سے بھاگتے پھرتے ہیںاور حتی الامکان رکوع میں شامل ہونے کی بھی پھر کوشش کی جاتی ہے لیکن کیا بھاگ کر رکوع پانے کی کوشش اسلام کے نزدیک کیسا عمل ہے ، اسی سوال کا جواب معروف عالم دین مفتی منیب الرحمان نے دیدیاہے ۔
مفتی منیب الرحمان نے بتایاکہ بھاگ کر نماز کی ادائیگی کیلئے کھڑی جماعت میں شامل ہونے کا طریقہ درست نہیں، حضرت ابوقتاد ہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ کچھ افراد کا شور سنائی دیا،جب آپ ﷺ نماز پڑھانے سے فارغ ہوگئے تو پوچھا: یہ شور کیوں تھا ،انہوں نے عرض کیا: ہم نماز میںجلدی شامل ہونا چاہتے تھے ،آپ ﷺنے فرمایا: ایسی عجلت نہ کیا کرو ،جب تم نماز کے لیے آﺅ تو سکون کے ساتھ آﺅ، تم (امام کے ساتھ ) نماز کا جو حصہ پالو وہ (امام کی اقتدا میں)پڑھ لواور جو حصہ رہ جائے ،وہ (امام کے سلام پھیرنے کے بعد) پورا کرو، (صحیح البخاری:615)“۔
انہوں نے بتایاکہ مسجد میں دوڑنا مسجد کے احترام اور وقار کے منافی ہے ،بعض اوقات انسان جلدی میں پھسل جاتا ہے یا ٹکر لگ جاتی ہے جو تکلیف کا باعث ہوتی ہے ،یہ شِعار بھی درست نہیں ہے کہ کسی نہ کسی طرح امام کو رکوع میں پالے تاکہ ا±س رکعت کے پڑھنے سے بچ جائیں ،کسی بھی مرحلے میں امام کے ساتھ ملیں ،ان شاءاللہ جماعت کا ثواب مل جائے گا، لیکن نماز اور مسجد کا وقار قائم رہنا چاہیے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here