عورت کی دوسری شادی لیکن کیا پہلے شوہر سے اولاد کو مرد اپنا نام دے سکتاہے؟ دینی اعتبار سے حل جانئے

0
178

اسلام آباد(پاکستان 247نیوز) جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں لیکن زمین پر ٹوٹتے بھی ہیں اور ایسے میں مطلقہ یا بیوہ خواتین بھی دوسری شادی کرلیتی ہیں اور پہلے شوہر سے اس کے بچوں کو دوسرا شوہراپنا نام دے دیتاہے تاکہ مستقبل میں بچوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور صرف یہی نہیں بلکہ معصوم بچے بڑے ہوکر احساس کمتری کا شکار نہ ہوں لیکن دینی اعتبار سے یہ کیسا فعل ہے ، اس کا جواب آپ بھی جانئے ۔
معروف عالم دین مولانا عبدالرزاق سکندر نے بتایاکہ ایسے بچوں کاحقیقی والد عورت کا سابق شوہر ہی ہے ، شریعت کے اعتبار سے بھی اسے بلانے ،پکارنے اور کاغذات میں ہر طرح اسی کی طرف منسوب کرنا چاہیے، اس کی ولدیت میں اپنا نام درج کرانا ناجائز ہے۔ قرآن مجید حکم دیتا ہے کہ اولاد کو ان کے حقیقی باپ کی طرف نسبت کرکے پکارو اور احادیث بھی اس سلسلے میں بہت زیادہ اور صاف ہیں کہ نسبت حقیقی والد ہی طرف ہونی چاہیے۔ اگر بچی کو حقیقی والد کی طرف منسوب نہ کیا جائے تو مستقبل میں اس سے بہت شرعی خامیاں پیش آئیں گی، اس لیے لازم ہے کہ ابھی ہی سے درست ولدیت کے ساتھ اس کے کاغذات بنوالیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here