وہ شخص جوکافرمرا لیکن زندہ ہوکر ایمان لے آیا، رونگٹے کھڑے کردینے والی تاریخی داستانی

0
50
maulana-muhammad-haroon-muawiyah

بیان کیا جاتا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس کی بیوی نہایت حسین تھی جس پر وہ اسرائیلی فریفتہ تھا، چنانچہ جب اس عورت کا انتقال ہو گیا تو اس اسرائیلی کو بڑا قلق ہوا اور ایک مدت تک وہ اس عورت کی قبر پر روتا رہا ، اتفاقاََ حضرت عیسٰی علیہ السلام کا ادھر سے گزر ہوا تو انہوں نے اس اسرائیلی کو پریشان حال دیکھ کر اس کا سبب معلوم کیا، جب اسرائیلی نے اپنا واقعہ بیان کیا تو حضرت عیسٰی علیہ السلام نے دریافت فرمایا، کیا تو چاہتا ہے کہ میں اس کو تیرے لیے زندہ کردوں؟ اس نے عرض کیا کہ ، ہاں حضور یہی میںچاہتا ہوں۔
چنانچہ جب حضرت عیسٰی علیہ السلام نے اس قبر کے مردہ کو آواز دی تو قبر سے ایک حبشی غلام جس کے ناک کے نتھنوں ، آنکھوں اور جسم کے دوسرے سوراخوں سے آگ کی لپٹیں اٹھ رہی تھیں،حضرت عیسٰی علیہ السلام کو دیکھتے ہی غلام نے کلمہ پڑھا ،اسرائیلی نے یہ دیکھ کر عرض کیا حضور؛ مجھ سے غلطی ہو گئی، میری بیوی کی قبر تو دوسری ہے، یہ سن کر حضرت عیسٰی علیہ السلام نے حبشی کو حکم دیا کہ تم اپنی قبر میں واپس ہو جاﺅ،چنانچہ وہ مردہ ہو کر گر گیااور اس کی قبر کو مٹی سے چھپا دیا گیا، پھر حضرت عیسٰی علیہ السلام نے اس دوسری قبر کی جانب توجہ فرمائی اور حکم دیا کہ ، اے صاحب قبر؛اللہ کے حکم سے زندہ ہو جا؛ چنانچہ قبر پھٹی اور اس سے ایک عورت سر سے گرد جھاڑتی ہوئی باہر آ گئی جس کو دیکھ کر اسرائیلی بولا کہ، یاروح اللہ؛ میری بیوی یہی ہے۔ اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے حکم سے وہ اسرائیلی اپنی بیوی کو ہمراہ لے کر واپس ہونے لگا مگر عرصہ سے جاگا ہوا تھا اس لیے اس پر نیند کا غلبہ ہو گیا اور اس نے بیوی سے کہا کہ تیری قبر پر گریہ وزاری اور بیداری نے مجھے ہلاک کر دیا ہے، اس لیے میں چاہتا ہوں کی کچھ دیر آرام کر لوں ، بیوی کہنے لگی کہ ؛ ہان ، آپ آرام کر لیجئے، چنانچہ وہ اسرائیلی بیوی کے زانو پر سر رکھ کر سو گیا ، اتنے میں ایک گھوڑے پر سوار ایک شہزادے کا ادھر سے گزر ہوا جو اپنے زمانے کا یکتا حسین تھا، جس کو دیک شہزادی از خود فریفتہ ہوگئی اور اس کا دل قابو میں نہ رہا اس نے شوہر کا سر زانو سے نیچے رکھا اور فرط محبت و غلبہ عشق سے مجبور ہو کر شہزادے کے سامنے جا کھڑی ہوئی، ادھر جیسے ہی شہزادے کی نظر اس پر پڑی وہ بھی اس کو دیک کر اس پر فریفتہ ہو گیا اور عورت کی خواہش پر اس کو اپنے گھوڑے پر بٹھا کر لے گیا ، چنانچہ اس کے شوہر نے بیدار ہو کر جب اپنی بیوی کو نہ پایا تو نہایت پریشان ہوا اور اس کے ملنے کی تدبیر سوچنے لگا سوچتے سوچتے آخر اس کے نشان پر چل کر اپنی بیوی کو تلاش کر لیا جو شہزادے کے پاس پہنچ چکی تھی۔اس کو دیکھ کر اسرائیلی نے شہزادے سے عرض کیا کہ، یہ میری بیوی ہے آپ اس کو چھوڑ دیجئے، ابھی شہزادہ کچھ کہنے بھی نہ پایا تھا کہ اس عورت نے کہا میں تیری بیوی نہیں، بلکہ شہزادے کی لونڈی ہوں؛ یہ سن کر شہزادہ اسرائیلی سے کہنے کیا مجھ سے میری لونڈی کو لینا چاہتاہے؟ اس نے کہا ، خدا کی قسم؛ یہ میری بیوی ہے جس کو میرے سردار حضرت عیسٰی علیہ السلام نےمرنے کے بعد میرے لیے زندہ کیا ہے، ابھی گفتگو ہورہی تھی اتفاقاََ حضرت عیسٰی علیہ السلام بھی وہاں تشریف لے آئے ، جن کو دیکھ کر اسرائیلی کہنے لگا، یا روح اللہ؛ کیا یہ میری وہ بیوی نہیں ہے جس کو آپ نے میرے لیے زندہ کیا ہے؟ حضرت عیسٰی علیہ السلام نے فرمایا کہ ہان؛ یہ وہی ہے یہ سن کر عورت کہنے لگی یا روحاللہ؛ یہ شخص جھوٹا ہے میں تو اس شہز ادے کی لونڈی ہوں۔حضرت عیسٰی علیہ السلام نے فرمایا کیا تو وہ عورت نہیں جس کو میں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے زندہ کیا ہے؟ عورت نے کہا ، یا روح اللہ؛ بخدا میں وہ نہیں ہوں اس کے بعد حضرت عیسٰی علیہ السلام نے فرمایا ، جو جان خدا کے حکم سے میں نے تجھے دی ہے اس کو واپس کر دے؛ یہ سنتے ہی وہ عورت پھر مردہ ہو کر گر پڑی اور حضرت عیسٰی علیہ السلام فرمانے لگے کہ، جو شخص ایسے آدمی کو دیکھنا چاہے جو کافر مرا تھا اور زندہ ہو کر ایمان لایا تو وہ اس حبشی غلام کو دیکھ لے جو پھر ایمان کی حالت میں مرا ہے اور جو کوئی ایسے شخص کو دیکھنا چاہے جو مومن مرا تھا پھر اللہ نے اس کو زندہ کیا اور کافر ہو کر حالت کفر میں مر گیا تو وہ اس عورت کو دیکھ لے، اس واقعہ کو دیکھ کر اسرائیلی نے قسم کھائی اب کبھی نکاح نہ کروں گا اور میدانوں کی طرف نکل گیا جہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت میںمصروف رہ کر اسے موت آ گئی اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے۔

یہ واقعہ مولانا محمد ہارون معاویہ صاحب نے اپنی کتاب میں لکھا جو آئن لائن بھی دستیاب ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here