سینیٹ قائمہ کمیٹی انسانی حقوق میں شادی کی عمر کی حد 18 سال مقرر کرنے کا بل منظور

0
42
pakistan senate committee marriage age 18 years old

اسلام آباد(پاکستان247نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے شادی کے لیے عمر کی حد اٹھارہ سال کرنے کا بل منظور کرلیا ہے۔

تفصیل کے مطابق سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کا اجلاس ہوا جس میں کمیٹی نے کم عمری کی شادی کے تعین کا بل منظور کرلیا جس کے تحت بچوں کی بلوغت کی حد 18 سال مقرر کی گئی ہے۔پی پی پی کی سینیٹر شیری رحمان نے چائلڈ میرج کی عمر کی حد مقرر کرنے سے متعلق ترمیمی بل 2018 پیش کرتے ہوئے کہا کہ لڑکے و لڑکیوں کے لئے شادی کی عمر کی حد 16 سال کے بجائے اٹھارہ سال کی جائے، یہ بل وفاق کے لئے ہے اور صوبے بھی اسے اڈاپٹ کریں، سندھ میں یہ بل پہلے ہی پاس ہوچکا ہے۔سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ بچوں کی شرح اموات کی بڑی وجہ کم عمر میں شادیاں ہیں، شناختی کارڈ کے لیے عمر 18 سال ہے تو شادی کی عمر بھی یہی ہونی چاہیے، لڑکی کے ساتھ لڑکے کی شادی کی عمر بھی 18 سال ہونی چاہیے اور شادی کیلئے 18 سال عمر کا قانون پارلیمنٹ سے منظور ہونا چاہیے۔

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ حکومت کو 18 سال شادی کی عمر کی حد مقرر کرنے پر کوئی اعتراض نہیں، مجوزہ بل آئندہ ماہ پارلیمنٹ میں بحث کیلئے پیش کردیا جائے گا اور بل کابینہ کی منظوری کیلئے بھی بھجوا دیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن اور کمیٹی ارکان نے بل کی حمایت کرنے پر حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ سینیٹر شیری رحمان کا بل تجویز کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہیں، کم عمری میں شادیاں معاشی معاشرتی مسائل پیدا کرتی ہیں، وفاق سے صوبوں کو اچھا پیغام جاِئے گا۔سینیٹ کمیٹی نے بچوں کی شادی کی عمر کی حد اٹھارہ سال کرنے کا شیری رحمان کا بل اتفاق رائے سے منظور کر لیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here